حدیث نمبر: 9624
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبِيكَنْدِيَّ - قَالَ عَمْرُو بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَائِعُ ، وَقَدْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ . قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجَّهَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى الْقَادِسِيَّةِ وَكَانَ لَهُ هُنَاكَ بَلَاءٌ حَسَنٌ . كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدٍ : قَدْ وَجَّهْتُ إِلَيْكَ - أَوْ أَمْدَدْتُكَ - بِأَلْفَيْ رَجُلٍ ؛ عَمْرِو بْنِ مَعْدِيكَرِبَ وَطُلَيْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ - وَهُوَ طُلَيْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ الْأَسَدِيُّ - فَشَاوِرْهُمَا فِي الْحَرْبِ وَلَا تُولِهِمَا شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سلام یعنی بیکندی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو زمانہ جاہلیت میں نمایاں حیثیت حاصل تھی انہیں اسلام کا زمانہ بھی نصیب ہوا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( اپنے عہد خلافت میں ) انہیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف قادسیہ بھیجا ، کیونکہ وہاں کی صورت حال مشکل تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ میں تمہاری طرف دو ہزار افراد کو بھیج رہا ہوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو ہزار کے ذریعے تمہاری مدد کر رہا ہوں ( جو درحقیقت دو افراد ہیں ) عمرو بن معدیکرب اور طلیحہ بن خویلد ۔ ( راوی کہتے ہیں : یہ سیدنا طلیحہ بن خویلد اسدی ہیں ) ، تم ان دونوں سے جنگ کے بارے میں مشورہ لینا اور انہیں کسی حوالے سے نظر انداز نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع