مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الرُّسُلِ باب: سفیروں کو قتل کرنے کی ممانعت
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَيْ مُسَيْلِمَةَ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا " . ¤ وَكَتَبَ مَعَهُمَا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ " . ¤ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَشْجَعَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ وَسَمَّاهُ أَبُو دَاوُدَ : سَعْدَ بْنَ طَارِقٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسیلمہ کے دو سفیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ معمول نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا ، تو میں نے تم دونوں کی گردنیں اڑوا دینی تھیں “ ۔ آپ نے ان دونوں کے ہمراہ یہ مکتوب بھیجا : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے اما بعد ! زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا ، اور وہ سب یہ کہتے ہوں گے کہ وہ نبی ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اشجع سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ انہوں نے ان سے سماع نہیں کیا امام ابوداؤد نے ان بزرگ کا نام سعد بن طارق بیان کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔