مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الرُّسُلِ باب: سفیروں کو قتل کرنے کی ممانعت
وَعَنْ وَبْرِ بْنِ مُشْهِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي مُسَيْلِمَةُ وَابْنَ شَلْغَافٍ وَابْنَ النَّوَّاحَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمْنَا عَلَيْهِ فَتَقَدَّمَانِي فِي الْكَلَامِ وَكَانَا أَسَنَّ مِنِّي فَتَشَهَّدَا ثُمَّ قَالَا : نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ مِنْ بَعْدِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَقُولُ يَا غُلَامُ ؟ " قُلْتُ : أَشْهَدُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ وَأُكَذِّبُ بِمَا كَذَّبْتَ بِهِ . فَقَالَ : " إِنِّي أَشْهَدُ عَدَدَ تُرَابِ الدَّهْنَاءِ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ كَذَّابٌ " . ثُمَّ قَالَ : " خُذُوهُمَا " . فَأُخِذَا وَأُمِرَ بِهِمَا إِلَى بَيْتِ كَيْسَانَ فَشَفَعَ فِيهِمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَخَلَّى عَنْهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤وبر بن مشہر بیان کرتے ہیں : مسیلمہ نے مجھے ، ابن شلغاف اور ابن نواحۃ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہم لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں ساتھیوں نے کلام کرنے میں مجھ سے پہل کی ، کیونکہ وہ دونوں عمر میں مجھ سے بڑے تھے ان دونوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں اور آپ کے بعد مسیلمہ ( نبی ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) دریافت کیا : اے لڑکے ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کی آپ گواہی دیں اور اس بات کو جھوٹ قرار دیتا ہوں جسے آپ جھوٹ قرار دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں دہناء کی مٹی کی تعداد میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب ہے پھر آپ نے فرمایا : تم لوگ ان دونوں کو پکڑ لو ان دونوں کو پکڑ لیا گیا ان دونوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ انہیں بہت کیسان میں رکھا جائے آپ کے اصحاب میں سے ایک نے ان دونوں کی سفارش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔