مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الرُّسُلِ باب: سفیروں کو قتل کرنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَهُمْ يَقُولُونَ : إِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرْتُهُ [ فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ فَجَاءُوا بِهِمْ ] فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ ، وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ النَّوَّاحَةِ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ فَقَالَ : " أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . فَقَالَا : تَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا " فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مُعَيِزٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي الْحُدُودِ . ¤ابن معیز سعدی بیان کرتے ہیں : میں سحری کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے نکلا میرا گزر بنوحنیفہ کی مسجد کے پاس سے ہوا وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے مسیلمہ اللہ کا رسول ہے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا انہوں نے سپاہیوں کو بھیجا وہ ان لوگوں کو پکڑ کر لے آئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( ان لوگوں میں سے ) توبہ کروائی ان لوگوں نے توبہ کر لی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( ان لوگوں میں سے ) ابن نواحہ کو قتل کروا دیا لوگوں نے کہا: آپ نے ایک ہی معاملے کی وجہ سے ان سب کو پکڑا تھا ، اور ان میں سے ایک کو قتل کروا دیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا تھا یہ شخص اور ابن اثال بن حجر ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو ان دونوں نے جواب دیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے سچے ( اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں اگر میں نے کسی سفیر کو قتل کروانا ہوتا ، تو تم دونوں کو قتل کروا دیتا ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسی وجہ سے میں نے اس شخص کو قتل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن معیز نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ کتاب الحدود میں آئے گا ۔