حدیث نمبر: 9588
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ يَذْهَبُ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى طَاغِيَةِ الرُّومِ ؟ " فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : " مَنْ يَذْهَبْ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ : أَنَا أَذْهَبُ بِهِ وَلِيَ الْجَنَّةُ إِنْ هَلَكْتُ دُونَ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ وَلَكَ الْجَنَّةُ إِنْ بَلَغْتَ أَوْ قُتِلْتَ ، وَإِنْ هَلَكْتَ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَكَ الْجَنَّةَ " . فَانْطَلَقَ بِكِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَلَغَ الطَّاغِيَةَ فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكَ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَعَرَفَ طَاغِيَةُ الرُّومِ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، ثُمَّ عَرَضَ عَلَيْهِ كِتَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَ الرُّومَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ عَرَضَهُ عَلَيْهِمْ ، فَكَرِهُوا مَا جَاءَ بِهِ ، وَآمَنَ بِهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقُتِلَ عِنْدَ إِيمَانِهِ ، ثُمَّ إِنِ الرَّجُلَ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْهُ وَمَا كَانَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " يَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " لِذَلِكَ الرَّجُلِ الْمَقْتُولِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کون میرا مکتوب روم کے سرکش لوگوں کی طرف لے کے جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے تین مرتبہ یہ چیز بیان کی اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : جو اسے لے کے جائے گا اسے جنت ملے گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام عبیداللہ بن عبدالخالق تھا ۔ انہوں نے کہا: یہ میں لے جاؤں گا کہ اس کے عوض میں مجھے جنت مل جائے اگرچہ اس سے پہلے میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں جنت ملے گی خواہ تم ( متعلقہ فرد تک یہ مکتوب ) پہنچا دو یا قتل ہو جاؤ اگر تم ہلاکت کا شکار ہو گئے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت کو واجب کر دے گا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر گئے ، یہاں تک کہ جب وہ سرکش افراد تک پہنچے اور انہوں نے یہ بتایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں ، تو انہوں نے اس کو اجازت دی وہ اندر داخل ہوئے روم کے سرکش لوگوں نے یہ بات جان لی کہ یہ ” مرسل “ نبی کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ان کے سامنے پیش کیا تو اس شخص نے اہل روم کو اپنے پاس اکٹھا کیا اور پھر ان کے سامنے یہ چیز رکھی تو وہ قاصد جو کچھ لے کے آیا تھا اسے ان لوگوں نے ناپسندیدہ قرار دیا ان میں سے ایک فرد اس پر ایمان لے آیا اس کے ایمان لانے کے ساتھ ہی اسے قتل کر دیا گیا پھر وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کو وہاں کی صورت حال کے بارے میں اور اس شخص کے بارے میں بتایا اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ایک امت کے طور پر زندہ کرے گا ( راوی کہتے ہیں : ( یہ اس مقتول شخص کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13608)»