کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگ سے پہلے اسلام کی پیش کش کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا
حدیث نمبر: 9578
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا قَاتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی قوم کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کرتے تھے جب تک پہلے انہیں دعوت نہیں دے دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2494 و 2591) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11269 و 11159) اخرجه احمد فى المسند (2052 و 2105)»
حدیث نمبر: 9579
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى قَوْمٍ يُقَاتِلُهُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ : " لَا تَدَعْهُ مِنْ خَلْفِهِ ، وَقُلْ لَهُ : لَا تُقَاتِلْهُمْ حَتَّى تَدْعُوَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ایک قوم کی طرف ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بھیجا اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا : تم اسے پیچھے سے نہ بلانا اور اسے کہنا : تم لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرنا جب تک پہلے انہیں دعوت نہیں دے دیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن یحیی قرقسانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9580
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ ظَبْيَانَ قَالَ : جَاءَنَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا وَجَدْنَا لَهُ قَارِئًا يَقْرَؤُهُ عَلَيْنَا حَتَّى قَرَأَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ : " مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرثد بن ظبیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس اللہ کے رسول کا مکتوب آیا ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو وہ پڑھ کے ہمیں سنا سکتا یہاں تک کہ بنو ضبیعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اسے پڑھ کر سنایا : یہ اللہ کے رسول کی طرف سے بکر بن وائل کے نام ہے : تم لوگ اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (68/5)»
حدیث نمبر: 9581
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَتَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ : " أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا " . فَمَا وَجَدُوا مَنْ يَقْرَؤُهُ لَهُمْ إِلَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِينَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکر بن وائل کو خط لکھا تھا : تم لوگ اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ، انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں وہ پڑھ کر سناتا انہیں بنوضبیعہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا ( جس نے انہیں وہ خط پڑھ کر سنایا ) اور ان لوگوں کو بنو کاتب کہا: جاتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے پہلی روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (307) أخرجه البزار فى المسند (1670) اخرجه ابو يعلي فى المسند (2947)»
حدیث نمبر: 9582
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . ¤ وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے کسری قیصر اور ہر حکمران کو خط لکھا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (336/3)»
حدیث نمبر: 9583
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " أَسْلِمْ تَسْلَمْ " . قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي كَارِهًا . قَالَ : " [ أَسْلَمُ ] وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے اس نے کہا: مجھے یہ لگتا ہے کہ میں ناگواری کے عالم میں ایسا کروں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو اگرچہ ناگواری کے عالم میں کرو !
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3765) اخرجه احمد فى المسند (109/3)»
حدیث نمبر: 9584
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : خَالٌ أَنَا أَوْ عَمٌّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ خَالٌ " . فَقَالَ : " قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : هُوَ خَيْرٌ لِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ماموں آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں انہوں نے دریافت کیا : کیا میں ماموں ہوں یا چچا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ماموں ہیں آپ نے فرمایا : آپ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں اس نے عرض کی : کیا یہ میرے لئے بہتر ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (787) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3512) اخرجه احمد فى المسند (152/3)»
حدیث نمبر: 9585
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي قُحَافَةَ : " أَسْلِمْ تَسْلَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ اسلام قبول کر لیں آپ سلامت رہیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (90/24)»
حدیث نمبر: 9586
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً ، فَأَدُّوا عَنِّي رَحِمَكُمُ اللَّهُ ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ؛ فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ وَأَمَّا ] مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهَا فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وَجَّهَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى : هَذَا أَمْرٌ قَدْ عَزَمَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِ فَافْعَلُوا " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُؤَدِّي عَنْكَ فَابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ . فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ إِلَى كِسْرَى وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى صَاحِبِ هَجَرَ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرَ وَعَبَّادِ ابْنَيْ جُلَنْدَا مَلِكَيْ عُمَانَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تم لوگوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے ، تو تم لوگ میری طرف سے ( تبلیغ کا فریضہ ) ادا کر دو اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحم کرے اور تم لوگ اس طرح اختلاف کا شکار نہ ہونا جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے حواری اختلاف کا شکار ہو گئے تھے ، کیونکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی انہیں اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی جس کی طرف میں نے تم لوگوں کو دعوت دی ہے جس شخص کا مقام قریبی ہو گا وہ جواب دے گا ( یعنی مان لے گا ) ، اور اسلام قبول کر لے گا ، اور جس کا مقام دور کا ہو گا وہ اسے ناپسند کرے گا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کی تو ان سب لوگوں کا یہ عالم ہو گیا کہ ان میں سے ہر ایک فرد ان لوگوں کی زبان میں بات چیت کر سکتا تھا جن کی طرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھیجا تھا ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا اس معاملے کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پختہ کر دیا ہے ، تو اب تم یہ کام کرو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم بھی آپ کی طرف سے تبلیغ کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھجوا دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسری کی طرف بھجوایا سلیط بن عمرو کو ہوذہ بن علی کی طرف بھجوایا جو یمامہ کا حکمران تھا علاء بن حضرمی کو منذر بن ساوی کی طرف بھجوایا جو حجر کا حکمران تھا عمرو بن عاص کو جیفر اور عباد کی طرف بھجوایا جو جلنده کے بیٹے تھے اور عمان کے حکمران تھے ۔ آپ نے دحیہ کلبی کو قیصر کی طرف بھجوایا آپ نے سجاع بن وہب اسدی کو منذر بن حارث بن ابوشمر عنسانی کی طرف بھجوایا آپ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھجوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے یہ سب لوگ واپس آ گئے تھے صرف علاء بن حضرمی نہیں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت وہ بحرین میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9586
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/20)»
حدیث نمبر: 9587
وَعَنْ دِحْيَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى قَيْصَرَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ : أَدْخِلْهُ عَلَيَّ فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ " . ¤ فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطٌ فَقَالَ : لَا تَقْرَأِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ ؛ لِأَنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ . قَالَ : فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ ، فَبَعَثَ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيِهِ وَعَنْ قَوْلِهِ ، فَلَمَّا قُرِئَ الْكِتَابُ قَالَ الْأُسْقُفُّ : هُوَ وَاللَّهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ . قَالَ قَيْصَرُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ الْأُسْقُفُّ : أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ . قَالَ قَيْصَرُ : أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وَقَتَلَنِي الرُّومُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روم کے حکمران قیصر کے پاس ایک مکتوب کے ہمراہ بھیجا میں نے ( اس کے درباریوں سے ) کہا: تم لوگ اللہ کے رسول ( کے نمائندے ) کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان قیصر کے پاس گیا اور اسے یہ بتایا گیا کہ دروازے پر ایک فرد موجود ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کا قاصد ہے وہ لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے قیصر نے کہا: اسے میرے پاس لے کے آؤ ( سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) وہ لوگ مجھے اس کے پاس لے گئے اس کے پاس اس کا ، بطارق ( مذہبی عالم یا پادری ) بھی موجود تھا ، میں نے مکتوب اُسے دیا وہ اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے روم کے حکمران قیصر کے نام ہے “ ۔ تو قیصر کا بھتیجا ، جو سرخ رنگ ، نیلی آنکھوں کا مالک تھا ، اور اس کے بال سیدھے تھے ، اس نے کہا: آپ آج یہ مکتوب نہ پڑھیں ، کیونکہ انہوں نے مکتوب کا آغاز اپنی ذات سے کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے ، روم کا بادشاہ نہیں لکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : وہ مکتوب پڑھ لیا گیا ، یہاں تک کہ جب وہ مکمل ہوا تو ان لوگوں کے بارے میں قیصر نے حکم دیا وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے پھر قیصر نے مجھے بلوایا میں اس کے پاس گیا اس نے مجھ سے سوالات کیے میں نے اسے جوابات دیے پھر اس نے ایک پادری کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ اس کے پاس آیا یہ نمایاں حیثیت کا مالک شخص تھا لوگ اس کی رائے کو اہمیت دیتے تھے اور اس کے قول کو ترجیح دیتے تھے جب وہ مکتوب پڑھا گیا تو اس پادری نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی فرد ہیں جن کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی اور جن کا ہم انتظار کر رہے تھے قیصر نے کہا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے کہا: میں ان کی تصدیق کروں گا ، اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے جواب دیا : میں جانتا ہوں ایسا ہی ہے ، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا اس صورت میں میری حکومت رخصت ہو جائے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4198)»
حدیث نمبر: 9588
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ يَذْهَبُ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى طَاغِيَةِ الرُّومِ ؟ " فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : " مَنْ يَذْهَبْ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ : أَنَا أَذْهَبُ بِهِ وَلِيَ الْجَنَّةُ إِنْ هَلَكْتُ دُونَ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ وَلَكَ الْجَنَّةُ إِنْ بَلَغْتَ أَوْ قُتِلْتَ ، وَإِنْ هَلَكْتَ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَكَ الْجَنَّةَ " . فَانْطَلَقَ بِكِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَلَغَ الطَّاغِيَةَ فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكَ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَعَرَفَ طَاغِيَةُ الرُّومِ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، ثُمَّ عَرَضَ عَلَيْهِ كِتَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَ الرُّومَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ عَرَضَهُ عَلَيْهِمْ ، فَكَرِهُوا مَا جَاءَ بِهِ ، وَآمَنَ بِهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقُتِلَ عِنْدَ إِيمَانِهِ ، ثُمَّ إِنِ الرَّجُلَ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْهُ وَمَا كَانَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " يَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " لِذَلِكَ الرَّجُلِ الْمَقْتُولِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کون میرا مکتوب روم کے سرکش لوگوں کی طرف لے کے جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے تین مرتبہ یہ چیز بیان کی اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : جو اسے لے کے جائے گا اسے جنت ملے گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام عبیداللہ بن عبدالخالق تھا ۔ انہوں نے کہا: یہ میں لے جاؤں گا کہ اس کے عوض میں مجھے جنت مل جائے اگرچہ اس سے پہلے میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں جنت ملے گی خواہ تم ( متعلقہ فرد تک یہ مکتوب ) پہنچا دو یا قتل ہو جاؤ اگر تم ہلاکت کا شکار ہو گئے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت کو واجب کر دے گا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر گئے ، یہاں تک کہ جب وہ سرکش افراد تک پہنچے اور انہوں نے یہ بتایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں ، تو انہوں نے اس کو اجازت دی وہ اندر داخل ہوئے روم کے سرکش لوگوں نے یہ بات جان لی کہ یہ ” مرسل “ نبی کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ان کے سامنے پیش کیا تو اس شخص نے اہل روم کو اپنے پاس اکٹھا کیا اور پھر ان کے سامنے یہ چیز رکھی تو وہ قاصد جو کچھ لے کے آیا تھا اسے ان لوگوں نے ناپسندیدہ قرار دیا ان میں سے ایک فرد اس پر ایمان لے آیا اس کے ایمان لانے کے ساتھ ہی اسے قتل کر دیا گیا پھر وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کو وہاں کی صورت حال کے بارے میں اور اس شخص کے بارے میں بتایا اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ایک امت کے طور پر زندہ کرے گا ( راوی کہتے ہیں : ( یہ اس مقتول شخص کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13608)»
حدیث نمبر: 9589
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّ أَوَّلَ يَوْمٍ رُعِبْتُ فِيهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، لَيَوْمُ قَالَ قَيْصَرُ فِي مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَحَضْرَتِهِ مَا قَالَ ، قَالَ : يَعْنِي قَوْلَهُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتَ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَحَضَرْتُهُ يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مَرْكُوبَ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَمَا زِلْتُ مَرْعُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْلَمْتُ ، وَفِي رِسَالَتِهِ : " يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ " " قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي سُفْيَانَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ( اسلام قبول کرنے سے پہلے ) وہ پہلا دن جب میرے دل میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب طاری ہوا یہ وہ دن تھا ۔ جب قیصر نے اپنی بادشاہی اپنی حکومت اور اپنی موجودگی میں وہ بات کہی ۔ راوی کہتے ہیں : ان کی مراد قیصر کے یہ الفاظ تھے کہ اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ وہی ہیں ، تو میں پیدل چل کر ان کے پاس جاؤں گا ، اور ان کے سر کو بوسہ دوں گا ، اور ان کے پاؤں دھوؤں گا ابوسفیان کہتے ہیں : میں وہاں موجود تھا اس کی پیشانی سے پسینہ نکلا اور اس مکتوب پر گرا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف بھیجا تھا ۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں مسلسل سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مرعوب رہا یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اس خط میں یہ تحریر تھا : ” اے اہل کتاب ! اس کلمے کی طرف آگے آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے میں سے کسی ایک کو معبود نہیں بنائیں گے اگر تم منہ پھیر لیتے ہو ، تو تم لوگ یہ کہہ دو کہ ہم مسلمان ہیں وہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناپسند ہو “ ۔ ” تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرو جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور وہ دین حق کو اختیار نہیں کرتے ہیں جن کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہیں کتاب دی گئی ( یہ جنگ اس وقت تک کرتے رہو ) یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر پست ہونے کے عالم میں جزیہ دیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7274)»
حدیث نمبر: 9590
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ : " مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْعَرَبِ فَسَمِعْتَ فِيهِمُ الْأَذَانَ فَلَا تَعْرِضْ لَهُمْ ، وَمَنْ لَمْ تَسْمَعْ فِيهِمُ الْأَذَانَ فَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ [ فَإِنْ لَمْ يُجِيبُوا فَجَاهِدْهُمْ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا آپ نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا عربوں میں سے جس بھی ( قبیلے یا آبادی ) سے سامنا ہو اور تم ان کے درمیان اذان کی آواز سنو تو تم ان کے در پے نہ ہونا اور جن میں تم اذان نہ سنو انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا اگر وہ بات نہ مانیں تو ان کے ساتھ جہاد کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4116)»
حدیث نمبر: 9591
وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطُ الرَّأْسِ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ " . ¤ قَالَ : فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً وَقَالَ : لَا تَقْرَأْ هَذَا الْيَوْمَ . فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مِلْكَ الرُّومِ . فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : لَتَقْرَأَنَّهُ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِّ - وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ - فَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ : هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى . فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُّ : أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي ، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ . فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ : حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ مَا هُوَ ؟ قَالَ : شَابٌّ . قَالَ : كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يَفْضُلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ . قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ . قَالَ : كَيْفَ صِدْقُهُ ؟ قَالَ : مَا كَذَبَ قَطُّ . قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ . قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكِمْ إِلَيْهِ هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ . قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ . قَالَ : هَلْ يُنْكَبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ؟ قَالَ : قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ . قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ . قَالَ : ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ : أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي . ¤ قَالَ : وَأَمَّا الْأُسْقُفُّ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيُسَائِلُنِي ، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَبَعَثُوا إِلَيْهِ لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمَ هَذَا الْعَرَبِيُّ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ : خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ ، وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ : لَتَكْفِيَنِّي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةً وَعِشْرِينَ رَجُلًا فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَلَمَّا قَرَأَ [ كِتَابَ ] صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ : " اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ " . فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ : احْصُوَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَخْبَرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْنَأَ مِنْهُ يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ . ¤ قَالَ دِحْيَةُ : ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیصہ کی طرف بھیجا میں اس کے پاس آیا اور میں نے مکتوب اسے دیا اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، وہ سرخ رنگت نیلی آنکھوں سیدھے بالوں والا شخص تھا ۔ جب اس نے مکتوب پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روم کے متعلقہ فرد ہرقل کے نام ہے “ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا ، جو سرخ رنگت ، نیلی آنکھوں اور سیدھے بالوں کا مالک تھا ، اس نے کہا: آپ اسے نہ پڑھیں قیصر نے اس سے دریافت کیا : کیوں ؟ اس نے جواب دیا : ان صاحب نے پہلے اپنا ذکر کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے روم کا بادشاہ نہیں لکھا قیصر نے اس سے کہا: تم اسے ضرور پڑھو جب اس نے مکتوب پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے قیصر نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور پھر ایک پادری کو پیغام بھیجا جو ان کے معاملات میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا قیصر نے اسے اس بارے میں بتایا اور اسے وہ مکتوب پڑھایا تو اس پادری نے کہا: یہ وہ فرد ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی قیصر نے اس سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے اس سے کہا: جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں ان کی تصدیق کروں گا ، اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے اسے کہا: اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری بادشاہی رخصت ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم اس کے پاس سے نکل آئے پھر قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیج کر بلوایا جو ان دنوں وہاں مقیم تھا ، اور یہ کہا: کہ تم مجھے اس فرد کے بارے میں بتاؤ جن کا ظہور تمہاری سرزمین پر ہوا ہے یہ کون ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : یہ ایک نوجوان ہیں اس نے دریافت کیا : تمہارے درمیان ان کا حسب کیسا ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : وہ ہمارے درمیان ایسی حیثیت کے مالک ہیں کہ کوئی بھی ان پر فضیلت نہیں رکھتا قیصر نے کہا: یہ نبوت کی ایک نشانی ہے اس نے کہا: ان کی سچائی کیسی ہے ؟ ابوسفیان نے کہا: انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: قیصر نے یہ کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آیا ۔ ابوسفیان نے جواب دیا : جی نہیں قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص نکل کر تمہاری طرف آیا ہو ، تو کیا وہ ان کی طرف لوٹ جاتے ہیں ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ۔ قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا ہوا کہ جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جنگ میں حصہ لیا ہو ، تو وہ پسپا ہو گئے ہوں ابوسفیان نے جواب دیا : لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور کبھی انہوں نے لوگوں کو پسپا کر دیا اور کبھی لوگوں نے انہیں پسپا کر دیا قیصر نے جواب دیا : یہ نبوت کی نشانی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلوایا اور بولا: تم اپنے آقا تک یہ بات پہنچا دو کہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ وہ نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت ترک نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ، تو وہ لوگ ہر اتوار کے دن اس پادری کے پاس اکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ۔ جب اتوار کا دن آیا تو وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس نہیں آیا اگلا اتوار آنے تک وہ بند رہا میں اس کے پاس جاتا تھا وہ مجھ سے بات چیت کرتا تھا مجھ سے سوالات کیا کرتا تھا ۔ جب اگلا اتوار آیا اور لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور انہیں یہ بتایا کہ میں بیمار ہوں ایسا چند مرتبہ ہوا تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ تم یا تو نکل کر ہمارے پاس آؤ گے یا ہم تمہارے پاس اندر آ جائیں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے ، کیونکہ جب سے عرب سے تعلق رکھنے والا یہ شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے پادری نے ( مجھ سے ) کہا: تم یہ مکتوب لو ، اور اسے اپنے آقا کے پاس لے جاؤ ان کی خدمت میں سلام پیش کرنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں میں ان پر ایمان لاتا ہوں ان کی تصدیق کرتا ہوں اور ان کی پیروی کرتا ہوں لوگ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں ، تم نے جو چیز دیکھی ہے وہ ان تک پہنچا دینا پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا تو ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا پھر سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہاں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اس وقت صنعا پر کسری کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ان لوگوں کو گورنر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا کسری نے صنعا کے گورنر کو یہ خط لکھا تھا ، اور اسے ڈانٹا تھا کہ تم میری جگہ ان صاحب کو سنبھال لو جو تمہاری سرزمین پر ظہور پذیر ہوئے ہیں انہوں نے مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دی ہے یا تو میں اسے قبول کر لوں یا جزیہ ادا کروں ( تم ایسا کر لو ) ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، اور تمہیں یہ کروں گا ، اور وہ کروں گا ، تو صنعا کے گورنر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پچیس افراد کو بھیجا سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پایا جب ان لوگوں نے اپنے متعلقہ فرد کا مکتوب پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پچیس دن تک ایسے ہی رہنے دیا جب پچیس دن گزر گئے تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلا کر فرمایا تم اپنے آقا کے پاس واپس چلے جاؤ ( یعنی صنعا کے گورنر کے پاس واپس چلے جاؤ ) اور اس سے یہ کہو کہ گزشتہ رات میرے پروردگار نے تمہارے آقا کو قتل کر دیا ہے وہ لوگ واپس چلے گئے ، اور گورنر کو اس بارے میں بتایا تو گورنر نے کہا: تم لوگ اس رات کو یاد رکھنا پھر اس نے کہا: تم مجھے بتاؤ کہ تم نے انہیں کیسے دیکھا تو ان لوگوں نے بتایا : ہم نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا کہ جو ان سے زیادہ عوامی حیثیت کا ہو ، وہ لوگوں کے درمیان یوں چلتے پھرتے ہیں کہ انہیں کسی چیز سے اندیشہ نہیں ہوتا ، نہ ان کی حفاظت کی جاتی ہے لوگ ان کے سامنے آوازیں بلند نہیں کرتے ہیں ۔ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آئی کہ اسی رات کسری قتل ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9591
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2374)»
حدیث نمبر: 9592
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ مُقْبِلٍ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : وَفَدَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ الْجُذَامِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا فِيهِ : " [ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ ] مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِرِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنِّي بَعَثْتُهُ إِلَى قَوْمِهِ عَامَّةً وَمَنْ دَخَلَ فِيهِمْ يَدَعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَمَنْ آمَنَ فَفِي حِزْبِ اللَّهِ وَحِزْبِ رَسُولِهِ وَمَنْ أَدْبَرَ فَلَهُ أَمَانُ شَهْرَيْنِ " . ¤ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ أَجَابُوهُ ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلَ الْحَرَّةَ حَرَّةَ الرَّجْلَى ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَدِمَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ مِنْ عِنْدِ قَيْصَرَ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادٍ مِنْ أَوْدِيَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ : شَنَارٌ وَمَعَهُ تِجَارَةٌ أَغَارَ عَلَيْهِمُ الْهُنَيْدُ بْنُ عُوَيْصٍ - وَأَبُوهُ الضَّبْعِيُّ بَطْنٌ مِنْ جُذَامٍ - فَأَصَابُوا كُلَّ شَيْءٍ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِ رِفَاعَةَ نَفَذُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ وَفِي مَنْ أَقْبَلَ : النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ حَتَّى لَقُوهُمْ وَاقْتَتَلُوا ، وَرَمَى قُرَّةُ بْنُ أَشْقَرَ الضَّبْعِيُّ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ كَعْبَهُ وَدَمَّاهُ وَقَالَ : ابْنُ أُثَالَةَ ثُمَّ رَمَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ وَقَالَ : أَنَا ابْنُ أُثَالَةَ ، وَقَدْ كَانَ حَسَّانُ بْنُ مِلَّةَ صَحِبَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَّمَهُ أُمَّ الْكِتَابِ وَاسْتَنْقَذُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَرَدُّوهُ عَلَى دِحْيَةَ . ¤ ثُمَّ إِنَّ دِحْيَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَاسْتَسْقَاهُ دَمَ الْهُنَيْدِ وَأَبِيهِ عُوَيْصٍ ، [ وَذَلِكَ الَّذِي هَاجَ زَيْدٌ وَجُذَامٍ ] فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَبَعَثَ مَعَهُ جَيْشًا وَقَدْ تَوَجَّهَتْ غَطَفَانُ وَجُذَامَ وَوَائِلُ وَمَنْ كَانَ مِنْ سَلْمَانَ وَسَعْدِ بْنِ هُذَيْلٍ حَتَّى جَاءَهُمْ رِفَاعَةُ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ الْحَرَّةَ - حَرَّةَ الرَّجْلَى - وَرِفَاعَةُ بِكُرَاعِ الْعَمِيمِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي ضَبِيبٍ وَسَائِرُ بَنِي الضَّبِيبِ بِوَادِي مَدَارَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا هَكَذَا وَمُنْقَطِعًا مُخْتَصَرًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يُجَاوِزْهُمْ وَفِي الْمُتَّصِلِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ وَإِسْنَادُهُمَا إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن مقبل جذامی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا رفاعہ بن زید جذامی ایک وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک مکتوب لکھوایا جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مکتوب ہے ، جو رفاعہ بن زید کے لئے ہے میں اسے اس کی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ان میں سے جو شخص ان میں داخل ہوتا ہے ( اس کی طرف بھیج رہا ہوں ) یہ ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دے گا جو شخص ایمان لے آئے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں شمار ہو گا ، اور جو منہ پھیر لے گا اسے دو مہینوں تک امان ملے گی “ ۔ جب سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف آئے تو ان لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا پھر وہ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے رجلی کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا اس کے بعد وہ وہیں مقیم رہے ، یہاں تک کہ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ قیصر کے پاس سے آ گئے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ۔ جب وہ لوگ اپنی وادیوں میں سے ایک وادی میں مقیم تھے جس کا نام شنار تھا ، اور ان کے ساتھ تجارت تھی جس پر ہنید بن عویص نے حملہ کیا تھا اس کا باپ صبھی تھا جس کا تعلق جذام کی ذیلی شاخ سے تھا انہوں نے ان کے پاس موجود ہر چیز لے لی تھی پھر سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کی قوم کے کچھ افراد ان کی طرف گئے ، اور وہ لوگ ان کی طرف آ گئے آنے والوں میں ایک شخص نعمان بن ابوجعال تھے ، یہاں تک کہ ان کا ان لوگوں کے ساتھ سامنا ہوا اور لڑائی ہوئی تو قرہ بن اشقر ربعی نے نعمان بن ابوجعال کو پتھر مار کر اس کی پنڈلی کو زخمی کر کے خون آلود کر دیا اور کہا: ابن اثالہ پھر نعمان ابوجعال نے ایک پتھر مارا اور ان کے گھٹنے پر مارا اور کہا: میں ابن اثالہ ہوں حسان بن ملہ ، دحیہ کلبی کے ساتھ اس سے پہلے رہے تھے ۔ انہوں نے انہیں سورت فاتحہ کی تعلیم دی تھی تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے چھڑوا لیا اور وہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا ۔ پھر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور انہوں نے ہنید اور اس کے باپ عویص کا خون مانگا اس کی وجہ یہ تھی زید اور جذام میں ہیجان تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک لشکر بھیجا ، انہوں نے غطفان ، جذام اور وائل قبیلے ، اور سلمان اور سعد بن ہذیل قبیلے کے افراد کی طرف رخ کیا ، یہاں تک کہ سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر اُن کے پاس آ گئے ، اور انہوں نے رجلہ کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ ” کراع الغمیم “ کے مقام پر تھے ان کے ساتھ بوضبیب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے اور باقی تمام بنوضبیب پتھریلی زمین کے ایک کنارے پر وادی ” مدارہ “ میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور منقطع اور مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ، جو ابن اسحاق سے منقول ہے انہوں نے ان سے تجاوز نہیں کیا متصل سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان دونوں کی سند ابن اسحاق تک عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (340/20)»
حدیث نمبر: 9593
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي لَوْ بُعِثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ " . . ¤ ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجُلَنْدَا يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَدِيَّةً فَقَدِمَتِ الْهَدِيَّةُ ، وَقَدْ قُبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مَوْرَثًا فَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَبَيْنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی انہوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں یہ مکتوب عمان کے کنارے ازشنوءہ اور اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والی قوم کی طرف بھجواتا ، تو وہ لوگ اسے قبول کر لیتے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلندہ کی طرف مکتوب بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اور وہ اسلام لے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے ایک تحفہ بھجوایا وہ تحفہ آیا تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحفہ لیا اور اسے وراثت کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9593
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12947)»
حدیث نمبر: 9594
وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ عَتَّابِ بْنِ شِمْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنْ لِي أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا وَإِخْوَةً ، فَأَذْهَبُ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يُسْلِمُوا فَآتِيكَ بِهِمْ ؟ قَالَ : " إِنْ هُمْ أَسْلَمُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُمْ وَإِنْ هُمْ أَقَامُوا فَالْإِسْلَامُ عَرِيضٌ وَاسِعٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مجمع بن عتاب بن شمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں اور میرے بھائی بھی ہیں میں ان کی طرف جاتا ہوں ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ، تو میں انہیں لے کر آپ کے پاس آ جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں ، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا وہ بھلے وہیں مقیم رہیں ، کیونکہ اسلام وسیع اور کشادہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن جابر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/17)»
حدیث نمبر: 9595
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ فَارِسٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رُسَيْمَ وَمِهْرَانَ وَمَلَأِ فَارِسٍ ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا نَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِي قَوْمًا يُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا تُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ . وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل فارس کو خط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی ( اس خط میں یہ تحریر تھا : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ خالد بن ولید کی طرف سے روسیم ، مہران اور فارس کے اکابرین کے نام ہیں اس شخص پر سلامتی نازل ہو جو ہدایت کی پیروی کر لیتا ہے ۔ اما بعد ! ہم تمہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں اگر تم نہیں مانو گے تو تم لوگ کمتر اور مجبور ہونے کے عالم میں جزیہ دے دینا ، اگر تم یہ بھی نہیں مانتے تو پھر میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں ، جو اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں ، جس طرح اہل فارس شراب کو پسند کرتے ہیں اس شخص پر سلامتی نازل ہو جو ہدایت کی پیروی کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے یا صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9595
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني وإسناده حسن أو صحيح.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2806)»