حدیث نمبر: 9587
وَعَنْ دِحْيَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى قَيْصَرَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ : أَدْخِلْهُ عَلَيَّ فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ " . ¤ فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطٌ فَقَالَ : لَا تَقْرَأِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ ؛ لِأَنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ . قَالَ : فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ ، فَبَعَثَ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيِهِ وَعَنْ قَوْلِهِ ، فَلَمَّا قُرِئَ الْكِتَابُ قَالَ الْأُسْقُفُّ : هُوَ وَاللَّهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ . قَالَ قَيْصَرُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ الْأُسْقُفُّ : أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ . قَالَ قَيْصَرُ : أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وَقَتَلَنِي الرُّومُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روم کے حکمران قیصر کے پاس ایک مکتوب کے ہمراہ بھیجا میں نے ( اس کے درباریوں سے ) کہا: تم لوگ اللہ کے رسول ( کے نمائندے ) کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان قیصر کے پاس گیا اور اسے یہ بتایا گیا کہ دروازے پر ایک فرد موجود ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کا قاصد ہے وہ لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے قیصر نے کہا: اسے میرے پاس لے کے آؤ ( سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) وہ لوگ مجھے اس کے پاس لے گئے اس کے پاس اس کا ، بطارق ( مذہبی عالم یا پادری ) بھی موجود تھا ، میں نے مکتوب اُسے دیا وہ اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے روم کے حکمران قیصر کے نام ہے “ ۔ تو قیصر کا بھتیجا ، جو سرخ رنگ ، نیلی آنکھوں کا مالک تھا ، اور اس کے بال سیدھے تھے ، اس نے کہا: آپ آج یہ مکتوب نہ پڑھیں ، کیونکہ انہوں نے مکتوب کا آغاز اپنی ذات سے کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے ، روم کا بادشاہ نہیں لکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : وہ مکتوب پڑھ لیا گیا ، یہاں تک کہ جب وہ مکمل ہوا تو ان لوگوں کے بارے میں قیصر نے حکم دیا وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے پھر قیصر نے مجھے بلوایا میں اس کے پاس گیا اس نے مجھ سے سوالات کیے میں نے اسے جوابات دیے پھر اس نے ایک پادری کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ اس کے پاس آیا یہ نمایاں حیثیت کا مالک شخص تھا لوگ اس کی رائے کو اہمیت دیتے تھے اور اس کے قول کو ترجیح دیتے تھے جب وہ مکتوب پڑھا گیا تو اس پادری نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی فرد ہیں جن کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی اور جن کا ہم انتظار کر رہے تھے قیصر نے کہا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے کہا: میں ان کی تصدیق کروں گا ، اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے جواب دیا : میں جانتا ہوں ایسا ہی ہے ، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا اس صورت میں میری حکومت رخصت ہو جائے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4198)»