حدیث نمبر: 9589
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّ أَوَّلَ يَوْمٍ رُعِبْتُ فِيهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، لَيَوْمُ قَالَ قَيْصَرُ فِي مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَحَضْرَتِهِ مَا قَالَ ، قَالَ : يَعْنِي قَوْلَهُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتَ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَحَضَرْتُهُ يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مَرْكُوبَ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَمَا زِلْتُ مَرْعُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْلَمْتُ ، وَفِي رِسَالَتِهِ : " يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ " " قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي سُفْيَانَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ( اسلام قبول کرنے سے پہلے ) وہ پہلا دن جب میرے دل میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب طاری ہوا یہ وہ دن تھا ۔ جب قیصر نے اپنی بادشاہی اپنی حکومت اور اپنی موجودگی میں وہ بات کہی ۔ راوی کہتے ہیں : ان کی مراد قیصر کے یہ الفاظ تھے کہ اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ وہی ہیں ، تو میں پیدل چل کر ان کے پاس جاؤں گا ، اور ان کے سر کو بوسہ دوں گا ، اور ان کے پاؤں دھوؤں گا ابوسفیان کہتے ہیں : میں وہاں موجود تھا اس کی پیشانی سے پسینہ نکلا اور اس مکتوب پر گرا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف بھیجا تھا ۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں مسلسل سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مرعوب رہا یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اس خط میں یہ تحریر تھا : ” اے اہل کتاب ! اس کلمے کی طرف آگے آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے میں سے کسی ایک کو معبود نہیں بنائیں گے اگر تم منہ پھیر لیتے ہو ، تو تم لوگ یہ کہہ دو کہ ہم مسلمان ہیں وہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناپسند ہو “ ۔ ” تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرو جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور وہ دین حق کو اختیار نہیں کرتے ہیں جن کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہیں کتاب دی گئی ( یہ جنگ اس وقت تک کرتے رہو ) یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر پست ہونے کے عالم میں جزیہ دیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7274)»