حدیث نمبر: 9586
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً ، فَأَدُّوا عَنِّي رَحِمَكُمُ اللَّهُ ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ؛ فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ وَأَمَّا ] مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهَا فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وَجَّهَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى : هَذَا أَمْرٌ قَدْ عَزَمَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِ فَافْعَلُوا " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُؤَدِّي عَنْكَ فَابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ . فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ إِلَى كِسْرَى وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى صَاحِبِ هَجَرَ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرَ وَعَبَّادِ ابْنَيْ جُلَنْدَا مَلِكَيْ عُمَانَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تم لوگوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے ، تو تم لوگ میری طرف سے ( تبلیغ کا فریضہ ) ادا کر دو اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحم کرے اور تم لوگ اس طرح اختلاف کا شکار نہ ہونا جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے حواری اختلاف کا شکار ہو گئے تھے ، کیونکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی انہیں اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی جس کی طرف میں نے تم لوگوں کو دعوت دی ہے جس شخص کا مقام قریبی ہو گا وہ جواب دے گا ( یعنی مان لے گا ) ، اور اسلام قبول کر لے گا ، اور جس کا مقام دور کا ہو گا وہ اسے ناپسند کرے گا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کی تو ان سب لوگوں کا یہ عالم ہو گیا کہ ان میں سے ہر ایک فرد ان لوگوں کی زبان میں بات چیت کر سکتا تھا جن کی طرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھیجا تھا ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا اس معاملے کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پختہ کر دیا ہے ، تو اب تم یہ کام کرو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم بھی آپ کی طرف سے تبلیغ کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھجوا دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسری کی طرف بھجوایا سلیط بن عمرو کو ہوذہ بن علی کی طرف بھجوایا جو یمامہ کا حکمران تھا علاء بن حضرمی کو منذر بن ساوی کی طرف بھجوایا جو حجر کا حکمران تھا عمرو بن عاص کو جیفر اور عباد کی طرف بھجوایا جو جلنده کے بیٹے تھے اور عمان کے حکمران تھے ۔ آپ نے دحیہ کلبی کو قیصر کی طرف بھجوایا آپ نے سجاع بن وہب اسدی کو منذر بن حارث بن ابوشمر عنسانی کی طرف بھجوایا آپ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھجوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے یہ سب لوگ واپس آ گئے تھے صرف علاء بن حضرمی نہیں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت وہ بحرین میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9586
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/20)»