حدیث نمبر: 9544
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ مِنَ اللَّهِ عَلَى خَيْرٍ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا نَعِيمُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى لِمَا يَرَى مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : " لِمَا يَرَى مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الشَّامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی جان مر جاتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی نصیب ہوتی ہے وہ ( جان ) یہ پسند نہیں کرتی کہ تمہاری طرف واپس آ جائے اگرچہ اسے دنیا اور تمام تر نعمتیں مل جائیں البتہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ( دنیا کی طرف ) واپس آئے اور اسے دوبارہ قتل کر دیا جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو ثواب عطا کیا ہوتا ہے اسے دیکھ کر ( وہ یہ آرزو کرتا ہے ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود کو ملنے والے ثواب کو دیکھ کر ( یہ آرزو کرتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن علاء شامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس مضمون کے بارے میں کچھ احادیث کتاب الجنائز اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف