حدیث نمبر: 9543
وَعَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ وَرَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الْخَيْرِ وَالرِّزْقِ فَازْدَادُوا رَغْبَةً فِي الشَّهَادَةِ ، تَمَنَّوْا أَنَّ أَصْحَابَهُمْ يَعْلَمُونَ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالرِّزْقِ قَالَ اللَّهُ : فَأَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین

سالم افطس بیان کرتے ہیں جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، اور انہوں نے بھلائی اور رزق ( یعنی اجر و ثواب ) کو دیکھا تو شہادت میں ان لوگوں کی رغبت زیادہ ہو گئی اور انہوں نے یہ آرزو کی کہ ان کے ساتھیوں کو بھی اس بات کا علم ہو جائے جو انہیں بھلائی اور رزق نصیب ہوا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : تم لوگوں کی طرف سے میں ان تک یہ پہنچا دیتا ہوں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتے ہیں ، تم انہیں ہرگز گمان نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع