کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شہداء کی ارواح کا بیان
حدیث نمبر: 9540
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِذَا قُتِلَ الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقَعُ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا ، ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَيْهِ بِرَيْطَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ فَتُقْبَضُ فِيهَا نَفْسُهُ ، وَبِجَسَدٍ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى تُرَكَّبَ فِيهِ رُوحُهُ ، ثُمَّ يَعْرُجُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ كَأَنَّهُ كَانَ مَعَهُمْ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَمَا مَرَّ بِبَابٍ إِلَّا فُتِحَ لَهُ ، وَلَا مَلَكٌ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَسْجُدَ قَبْلَ الْمَلَائِكَةِ ثُمَّ تَسْجُدَ الْمَلَائِكَةُ بَعْدَهُ ، ثُمَّ يُغْفَرَ لَهُ وَيُطَهَّرَ ، ثُمَّ يُؤْمَرَ بِهِ إِلَى الشُّهَدَاءِ فَيَجِدَهُمْ فِي رِيَاضٍ خُضْرٍ وَقِبَابٍ مِنْ حَرِيرٍ ، عِنْدَهُمْ ثَوْرٌ وَحُوتٌ يَلْغَثَانِ لَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ بِشَيْءٍ لَمْ يَلْغَثَاهُ بِالْأَمْسِ ، يَظَلُّ الْحُوتُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَأْكُلُ مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَمْسَى وَكَزَهُ الثَّوْرُ بِقَرْنِهِ فَذَكَاهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، وَيَبِيتُ الثَّوْرُ نَافِشًا فِي الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ فَإِذَا أَصْبَحَ عَدَا عَلَيْهِ الْحُوتُ فَذَكَاهُ بِذَنْبِهِ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ ثَمَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، يَنْظُرُونَ إِلَى مَنَازِلِهِمْ ، يَدْعُونَ اللَّهَ بِقِيَامِ السَّاعَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجَنَائِزِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْبَيْلَمَانِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب بندہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، پھر وہ اس کی طرف جنت میں سے ایک چادر بھیجتا ہے ، جس میں اس کی جان کو قبض کیا جاتا ہے ، اور جنت میں سے ایک جسم بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی روح کو اس میں ڈالا جاتا ہے ، پھر وہ فرشتوں کے ساتھ اوپر جاتا ہے یوں جیسے جب سے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے تب سے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہی ہے ، یہاں تک کہ وہ آسمان تک آ جاتا ہے وہ جس بھی دروازے کے پاس سے گزرتا ہے اسے کھول دیا جاتا ہے وہ جس بھی فرشتے کے پاس سے گزرتا ہے وہ فرشتہ اس کے لئے دعائے رحمت اور دعائے مغفرت کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسے رحمان کے پاس لایا جاتا ہے ، تو وہ فرشتوں سے پہلے سجدے میں جاتا ہے فرشتے اس کے بعد سجدے میں جاتے ہیں پھر اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اسے پاک کر دیا جاتا ہے پھر اسے شہداء کی طرف لے جانے کا حکم دیا جاتا ہے ، تو وہ ان شہداء کو سر سبز باغات میں ریشمی قبوں میں پاتا ہے جن کے پاس ایک بیل اور ایک مچھلی ہوتی ہے وہ ان لوگوں کو روزانہ ایسی چیز فراہم کرتے ہیں ، جو گزشتہ دن نہیں دی گئی ہوتی وہ مچھلی جنت کی نہروں میں رہتی ہے اور جنت کی نہروں میں سے ہر قسم کے ذائقے والی چیز کھاتی ہے جب شام ہوتی ہے ، تو بیل اسے سینگ مار کر اسے ذبح کر دیتا ہے وہ لوگ اس مچھلی کا گوشت کھاتے ہیں ، تو انہیں جنت کی نہروں میں موجود ہر چیز کا ذائقہ اس کے گوشت میں محسوس ہوتا ہے پھر وہ بیل رات گزارتا ہے وہ جنت میں چرتا رہتا ہے وہ جنت کے پھل کھاتا ہے جب صبح ہوتی ہے ، تو مچھلی اس کے پاس آتی ہے اور اپنی دم کے ذریعے اسے ذبح کر دیتی ہے وہ لوگ اس بیل کا گوشت کھاتے ہیں ، تو انہیں اس کے گوشت میں جنت کے ہر پھل کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے وہ اپنے ٹھکانوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالرحمن بن بیلمانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9541
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ ، [ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ ] يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہداء جنت کے دروازے کے پاس موجود نہر کے کنارے پر ہوں گے وہ سبز قبے میں ہوں گے جنت میں سے ان کا رزق صبح و شام نکل کر ان کے پاس آئے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10825) اخرجه احمد فى المسند (2390)»
حدیث نمبر: 9542
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوں گی ، وہ جنت میں جہاں چاہیں گے چلے جائیں گے پھر وہ عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی قندیلوں کے پاس واپس آ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8905)»
حدیث نمبر: 9543
وَعَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ وَرَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الْخَيْرِ وَالرِّزْقِ فَازْدَادُوا رَغْبَةً فِي الشَّهَادَةِ ، تَمَنَّوْا أَنَّ أَصْحَابَهُمْ يَعْلَمُونَ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالرِّزْقِ قَالَ اللَّهُ : فَأَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سالم افطس بیان کرتے ہیں جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، اور انہوں نے بھلائی اور رزق ( یعنی اجر و ثواب ) کو دیکھا تو شہادت میں ان لوگوں کی رغبت زیادہ ہو گئی اور انہوں نے یہ آرزو کی کہ ان کے ساتھیوں کو بھی اس بات کا علم ہو جائے جو انہیں بھلائی اور رزق نصیب ہوا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : تم لوگوں کی طرف سے میں ان تک یہ پہنچا دیتا ہوں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتے ہیں ، تم انہیں ہرگز گمان نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 9544
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ مِنَ اللَّهِ عَلَى خَيْرٍ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا نَعِيمُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى لِمَا يَرَى مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : " لِمَا يَرَى مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الشَّامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی جان مر جاتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی نصیب ہوتی ہے وہ ( جان ) یہ پسند نہیں کرتی کہ تمہاری طرف واپس آ جائے اگرچہ اسے دنیا اور تمام تر نعمتیں مل جائیں البتہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ( دنیا کی طرف ) واپس آئے اور اسے دوبارہ قتل کر دیا جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو ثواب عطا کیا ہوتا ہے اسے دیکھ کر ( وہ یہ آرزو کرتا ہے ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود کو ملنے والے ثواب کو دیکھ کر ( یہ آرزو کرتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن علاء شامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس مضمون کے بارے میں کچھ احادیث کتاب الجنائز اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف