حدیث نمبر: 9545
عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَعْلَمُونَ [ مَنِ ] الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي ؟ " فَأَزَّمَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ : سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شَهَادَةٌ ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ ، وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . قَالَ : وَزَادَ أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ : " وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے یہ ان کی بیماری کے دوران کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میری امت میں سے شہید کون ہیں ؟ تو لوگ خاموش رہے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے سہارا دو لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ( قتل ہونے والا شخص شہید ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون ( کی وجہ سے مرنا ) شہادت ہے ڈوب ( کر مرنا ) شہادت ہے پیٹ ( کی بیماری کی وجہ سے مرنا ) شہادت ہے نفاس ( کے دوران مرنے والی عورت کو ) اس کا بچہ اپنی نال کے ذریعے کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابوعوام نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بیت المقدس کا خادم ( ہونے کے طور پر مرنا ) اور جل کر یا ، سیلاب ( میں مرنا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (489/3)»