حدیث نمبر: 9531
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَبَارَزَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَتْلَهُ الْمُشْرِكُ ، ثُمَّ بَرَزَ لَهُ آخَرُ مَنِ الْمُسْلِمِينَ فَقَتْلَهُ الْمُشْرِكُ ، ثُمَّ جَاءَ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : عَلَى مَا تُقَاتِلُونَ ؟ فَقَالَ : " دِينُنَا أَنْ نُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ نَفِيَ لِلَّهِ بِحَقِّهِ " . قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَحَسَنٌ ، آمَنْتُ بِهَذَا ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ فَحَمَلَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَحُمِلَ ، فَوُضِعَ مَعَ صَاحِبَيْهِ الَّذَيْنِ قَتَلَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَؤُلَاءِ أَشَدُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَحَابًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَسَمَاعُ ابْنِ الْمُبَارَكِ مِنَ الْمَسْعُودِيِّ صَحِيحٌ ، فَصَحَّ الْحَدِيثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَإِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شریک ہوئے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مقابلے کے لئے للکارا پھر مشرک نے اس مسلمان کو قتل کر دیا مسلمانوں میں سے ایک اور شخص اس کے سامنے آیا مشرک نے اسے بھی قتل کر دیا پھر وہ شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا اور بولا: آپ لوگ کس بات پر جنگ کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارا دین یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کا حق پوری طرح ادا نہیں کرتے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بات تو اچھی ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں پھر وہ مڑ کر مسلمانوں کی طرف چلا گیا پھر اس نے مشرکین پر حملہ کیا اور جنگ کرتا رہا یہاں تک کہ قتل ہو گیا تو اس کی میت کو لا کر اس کے ان دو ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیا گیا جنہیں اس سے پہلے وہ قتل کر چکا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے یہ لوگ آپس میں سب سے زیادہ محبت رکھنے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ابن مبارک کا مسعودی سے سماع صحیح ہے ، تو اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ حدیث ” صحیح “ ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح