حدیث نمبر: 9530
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا وَقَفَ الْعَبْدُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِي سُيُوفِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا فَازْدَحَمُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَقِيلَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : الشُّهَدَاءُ كَانُوا أَحْيَاءً مَرْزُوقِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي الْبَعْثِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندہ حساب کے لئے رکے گا ، تو کچھ لوگ آئیں گے جنہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوئی ہوں گی ان کے خون کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے وہ جنت کے دروازے پر ہجوم کریں گے دریافت کیا جائے گا : یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: جائے گا : یہ شہداء ہیں یہ زندہ تھے اور انہیں رزق دیا جاتا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر اگر اللہ نے چاہا ، تو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آئے گی اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2019)»