کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: شہادت اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9511
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - تَحْتَ عَرْشِهِ ، لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَمَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا ، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُقْتَلَ ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مقتول تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ مومن شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو ان کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے ، جو اللہ کے عرش کے نیچے اس کے خیمے میں موجود ہونے پر فخر کرنے والا ہو گا ، اور انبیاء کو صرف نبوت کے مرتبے کے حوالے سے اس پر فضیلت حاصل ہو گی ایک وہ مومن شخص جو گناہوں اور خطاؤں کے حوالے سے اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے پھر وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اس سے جنگ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جاتا ہے ، تو دہشت اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دے گی ، کیونکہ تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہوتی ہے ، وہ جس دروازے سے چاہے گا ، اُسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور ان میں سے بعض ، دوسروں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ منافق شخص ہے ، جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ قتل ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جائے گا ، کیونکہ تلوار منافقت کو نہیں مٹاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اس کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے بعض ، بعض سے افضل ہیں ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مثنی املوکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اس کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے بعض ، بعض سے افضل ہیں ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مثنی املوکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9512
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَا يُرِيدُ أَنْ يُقَاتِلَ وَلَا يُقْتَلَ ، يُكَثِّرُ سَوَادَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا وَأُجِيرَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَحَلَّتْ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَالْخُلْدِ . ¤ وَالثَّانِي خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يُقْتَلَ وَلَا يَقْتُلَ فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ كَانَتْ رُكْبَتُهُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ . ¤ وَالثَّالِثُ : خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ وَيُقْتَلَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ وَاضِعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَالنَّاسُ جَاثُونَ عَلَى الرُّكَبِ يَقُولُونَ : أَلَا افْسَحُوا لَنَا فَإِنَّا قَدْ بَذَلْنَا دِمَاءَنَا لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَالَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ أَوِ النَّبِيِّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَزَحَلَ لَهُمْ عَنِ الطَّرِيقِ لِمَا يَرَى مِنْ وَاجِبِ حَقِّهِمْ حَتَّى يَأْتُوا مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ لَا يَجِدُونَ غَمَّ الْمَوْتِ وَلَا يُقِيمُونَ فِي الْبَرْزَخِ وَلَا تُفْزِعُهُمُ الصَّيْحَةُ وَلَا يُهِمُّهُمُ الْحِسَابُ وَلَا الْمِيزَانُ وَلَا الصِّرَاطُ ، يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ وَلَا يَسْأَلُونَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ وَلَا يَشْفَعُونَ فِي شَيْءٍ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ ، وَيُعْطَوْنَ مِنَ الْجَنَّةِ مَا أَحَبُّوا وَيَتَبَوَّءُونَ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ أَحَبُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِشَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَانْ كَانَ هُوَ النَّيْسَابُورِيَّ فَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ جنگ کرنے کا یا قتل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا وہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے اگر وہ مر جاتا ہے یا قل ہو جاتا ہے ، تو اس کے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اسے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا ، اور گھبراہٹ سے امان میں رکھا جائے گا حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جائے گی اور کرامت کا حلہ اسے پہنایا جائے گا اس کے سر پر وقار کا اور خلد کا تاج رکھا جائے گا“ ۔ دوسرا وہ شخص ہے ، جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ قتل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ، تو اس کا گھٹنا ، سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہو گا ، جو اقتدار رکھنے والے بادشاہ کے نزدیک سچائی کا ٹھکانہ ہو گا ۔ تیسرا وہ شخص ہے ، جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ قتل کرے گا ، اور قتل ہو گا ، اور اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ، تو وہ قیامت کے دن اپنی تلوار لہراتے ہوئے اسے اپنے کندھے پر رکھ کر آئے گا لوگ اس وقت اپنے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ ( شہداء ) کہہ رہے ہوں گے : ہمارے لئے راستہ دو کیونکہ ہم نے اپنے خون اللہ کے لئے خرچ کیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ شخص یہ بات سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام یا اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی اور نبی سے بھی کہے گا ، تو وہ بھی اس کے لئے راستہ چھوڑ دیں گے ، کیونکہ وہ اس کے حق سے واجب ہونے والی چیز کو دیکھیں گے ، یہاں تک کہ وہ شہداء عرش کے نیچے نور کے منبروں کے پاس آ جائیں گے اور ان پر بیٹھ کر یہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے انہیں موت کا غم محسوس نہیں ہو گا وہ برزخ میں کھڑے نہیں ہوں گے چیخ چنگھاڑ انہیں خوف زدہ نہیں کرے گی حساب انہیں پریشان نہیں کرے گا میزان اور صراط انہیں پریشان نہیں کریں گے وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے وہ جو چیز مانگیں گے وہ انہیں دی جائے گی وہ جس کے بارے میں شفاعت کریں گے ان کی شفاعت قبول ہو گی جنت میں سے جو وہ پسند کریں گے وہ انہیں دیا جائے گا ، اور جنت میں جہاں وہ چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد محمد بن معاویہ کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اگر تو یہ نیشا پوری ہے ، تو پھر یہ متروک ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد محمد بن معاویہ کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اگر تو یہ نیشا پوری ہے ، تو پھر یہ متروک ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 9513
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنْ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ لَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا ، أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ : عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُلْقَوْنَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : شہداء میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ کہ جب وہ صف میں کھڑے ہوں ، تو ان کے چہرے مڑیں نہیں ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جائیں یہ لوگ جنت کے بالائی بالا خانوں میں چلیں گے اور ان کا پروردگار ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے گا ، اور جب پروردگار دنیا میں کسی بندے کی طرف دیکھ کر مسکرا دے تو اس بندے سے حساب نہیں لیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: شہداء میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جو پہلی صف میں شامل ہوتے ہیں : باقی روایت حسب سابق ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: شہداء میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جو پہلی صف میں شامل ہوتے ہیں : باقی روایت حسب سابق ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9514
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الْجِهَادِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَلْتَقُونَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَلَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا ، أُولَئِكَ يَتَلَبَّطُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ ، يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ إِذَا ضَحِكَ إِلَى قَوْمٍ فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبَانٍ ، وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، كَمَا نَقَلَ الذَّهَبِيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ان لوگوں کا ہو گا جو پہلی صف میں دشمن کا سامنا کرتے ہیں اور پھر ان کے چہرے مڑتے نہیں ہیں ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جاتے ہیں یہ لوگ جنت کے بالائی بالا خانوں میں رہیں گے ان کا پروردگار ان کی طرف دیکھتا ہے اور جب وہ کسی قوم کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتا ہے ، تو ان لوگوں پر حساب دینا لازم نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عنبسہ بن سعید بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات نقل کی ہے کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عنبسہ بن سعید بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات نقل کی ہے کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9515
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ كُلَّهَا " أَوْ قَالَ : " كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْأَمَانَةَ ، وَالْأَمَانَةَ فِي الصَّلَاةِ ، وَالْأَمَانَةَ فِي الصَّوْمِ ، وَالْأَمَانَةَ فِي الْحَدِيثِ ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ الْوَدَائِعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کی راہ میں قتل ہونا تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ہر شے کا کفارہ بن جاتا ہے البتہ امانت کا معاملہ مختلف ہے اور امانت کا تعلق نماز سے بھی ہے اور امانت کا تعلق روزے سے بھی ہے امانت کا تعلق بات چیت سے بھی ہے اور سب سے زیادہ سخت ( امانت ) ودیعت کے طور پر رکھوائی گئی چیزوں کے بارے میں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9516
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ ، وَهُوَ هَذَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سِتَّ خِصَالٍ : أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ ، وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَيُزَوَّجَ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَبْعَ خِصَالٍ " وَهِيَ كَذَلِكَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں ، جو حدیث اس سے پہلے گزری ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چھ خصوصیات حاصل ہوں گی یہ کہ پہلی مرتبہ اس کے خون کے گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جائے گی اور وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گا ، اور اسے ایمان کا حلہ پہنا دیا جائے گا ، اور حورعین کے ساتھ اس کی شادی کر دی جائے گی اسے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ ہو گا اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا ، جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہو گا اس کی شادی حورعین سے تعلق رکھنے والی بہتر بیویوں سے کی جائے گی اور اس کے قریبی رشتہ داروں میں سے ستر افراد کے بارے میں اس کی شفاعت قبول ہو گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح اس کی مانند نقل کی ہے یہ امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سات خصوصیات حاصل ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اور یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح اس کی مانند نقل کی ہے یہ امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سات خصوصیات حاصل ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اور یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9517
وَعَنْ [ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ ] رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس جذامی رضی اللہ عنہ جو ایک ایسے فرد ہیں ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کو اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ چھ خصوصیات عطا کر دی جاتی ہیں اس کے ہر گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لیتا ہے حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہو جاتا ہے قبر کے عذاب سے محفوظ ہو جاتا ہے اسے ایمان کا حلہ پہنا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 9518
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلشَّهِيدِ سِتُّ خِصَالٍ : يُغْفَرُ لَهُ بِأَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ ، وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہید کو چھ خصوصیات حاصل ہوتی ہیں اس کے خون کے پہلی مرتبہ ( گرنے ) کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اسے گھبراہٹ سے محفوظ رکھا جاتا ہے وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے اور اسے قبر کے عذاب سے بچا لیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9519
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ تُكَفَّرُ بِهَا ذُنُوبُهُ ، وَالثَّانِيَةَ : يُكْسَى مَنْ حُلَلِ الْإِيمَانِ ، وَالثَّالِثَةَ : يُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہید کے خون کا جب پہلا قطرہ گرتا ہے اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے دوسرے ( قطرے کے ساتھ یا دوسری خصوصیت یہ حاصل ہوتی ہے ) کہ اسے ایمان کا حلہ پہنایا جائے گا تیسری یہ کہ حورعین کے ساتھ اس کی شادی کرائی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 9520
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّهِيدُ يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْقَةٍ مِنْ دَمِهِ ، وَيُزَوَّجُ حَوْرَاوَيْنِ ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَالْمُرَابِطُ إِذَا مَاتَ فِي رِبَاطِهِ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ عَمَلِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ غُدِيَ عَلَيْهِ ، وَرِيحَ بِرِزْقِهِ ، وَيُزَوَّجُ سَبْعِينَ حَوْرَاءَ وَقِيلَ لَهُ : قِفْ فَاشْفَعْ إِلَى أَنْ يَفْرَغَ مِنَ الْحِسَابِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کے خون کے پہلی مرتبہ ( گرنے کے ساتھ ) شہید کی مغفرت ہو جاتی ہے اور دو حوروں کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اہلِ خانہ میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا ، اور پہرا دینے والا شخص جب پہرے کے دوران مر جاتا ہے ، تو قیامت تک اس کے عمل کا اجر اس کے لئے نوٹ کیا جاتا ہے اس کا رزق صبح و شام اسے دیا جاتا ہے ستر حوروں کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے اس سے کہا: جائے گا : تم ٹھہرو اور شفاعت کرو جب تک حساب ختم نہیں ہوتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9521
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ بَيْنَ أَحْمَرَ وَأَخْضَرَ وَأَصْفَرَ فَإِذَا لَقِيتُمْ عَدُوَّكُمْ فَقُدُمًا قُدُمًا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْ لَهُ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فَإِذَا اسْتُشْهِدَ كَانَ أَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقَعُ مِنْ دَمِهِ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ ، وَيَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولَانِ : قَدْ آنَ لَكَ ، وَيَقُولُ هُوَ : قَدْ آنَ لَكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ الْآخَرِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جِدَارٍ أَتَمَّ مِنْ هَذَا فِي فَضْلِ الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ سرخ سبز اور زرد کے درمیان ہوتے ہو جب تم دشمن کا سامنا کرو تو پیش قدمی کرو پیش قدمی کرو ، کیونکہ جب بھی کوئی شخص اللہ کی راہ میں سوار ہوتا ہے ، تو حورعین سے تعلق رکھنے والی دو حوریں لپک کر اس کے پاس آتی ہیں جب وہ شخص جام شہادت نوش کر لیتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک گناہ کو ختم کر دیتا ہے وہ دونوں حوریں اس کے چہرے سے غبار پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت آ گیا ہے ، تو وہ کہتا ہے : اب تمہارا بھی وقت آ گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم تیمی ہے اور دوسری کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔ اس سے پہلے جدار کی حدیث گزر چکی ہے جو جہاد کی فضیلت کے بارے میں اس سے زیادہ مکمل ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم تیمی ہے اور دوسری کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔ اس سے پہلے جدار کی حدیث گزر چکی ہے جو جہاد کی فضیلت کے بارے میں اس سے زیادہ مکمل ہے ۔
حدیث نمبر: 9522
وَعَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ - وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ شَجَرَةَ مِمَّنْ يُصَدِّقُ قَوْلُهُ فِعْلَهُ - قَالَ : خَطَبَنَا فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، مَا أَحْسَنَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، نَرَى مِنْ بَيْنِ أَحْمَرَ وَأَخْضَرَ وَأَصْفَرَ ، وَفِي الرِّجَالِ مَا فِيهَا ، وَكَانَ يَقُولُ : إِذَا صُفَّ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ وَصُفُّوا لِلْقِتَالِ : فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَأَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَأَبْوَابُ النَّارِ ، وَزُيِّنَ الْحُورُ الْعِينُ وَاطَّلَعْنَ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الرَّجُلُ قُلْنَ : اللَّهُمَّ انْصُرْهُ وَإِذَا أَدْبَرَ احْتَجَبْنَ مِنْهُ وَقُلْنَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، فَانْهَكُوا وُجُوهَ الْقَوْمِ ، فَدَى لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، وَلَا تُخْزُوا الْحُورَ الْعِينَ ، فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تُنْضَحُ تُكَفِّرُ عَنْهُ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلَهُ ، وَتَنْزِلُ إِلَيْهِ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ يَمْسَحَانِ وَجْهَهُ وَيَقُولَانِ قَدْ أَنَى لَكَ وَيَقُولُ : قَدْ أَنَى لَكُمَ ، ثُمَّ يُكْسَى مِائَةَ حُلَّةٍ لَيْسَ مِنْ نَسْجِ بَنِي آدَمَ ، وَلَكِنْ مِنْ نَبْتِ الْجَنَّةِ لَوْ وُضِعْنَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ لَوَسِعْنَهُ ، وَكَانَ يَقُولُ : نُبِّئْتُ : " أَنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد اور یزید بن شجرہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے یزید بن شجرہ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کا قول ان کے فعل کی تصدیق کرتا تھا وہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : یزید بن شجرہ نے ) ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنا عمدہ نعمتیں کی ہیں ہم سرخ سبز اور زرد کو دیکھتے ہیں اور لوگوں میں ایسے افراد ہیں ، جو ان میں ہیں وہ یہ فرمایا کرتے تھے : جب نماز کے لئے صف قائم ہوتی ہے اور جب جنگ کے لئے صف بنائی جاتی ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں حورعین آراستہ ہوتی ہیں اور جھانکتی ہیں جب کوئی شخص آگے بڑھتا ہے ، تو وہ یہ کہتی ہیں اے اللہ ! اس کی مدد فرما اور جب کوئی شخص پیچھے مڑ جاتا ہے ، تو وہ اس سے پردہ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے تو تم دشمن کو پسپا کرو میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں تم لوگ حورعین کو رسوائی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ جب ( شہید کا ) پہلا قطرہ گرتا ہے ، تو اس کے کیے ہوئے عمل کی ہر چیز کا کفارہ بن جاتا ہے حوروں سے تعلق رکھنے والی دو بیویاں نیچے اتر کر اس کے پاس آتی ہیں اور اس کے چہرے کو پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت آ گیا ہے تو وہ یہ کہتا ہے : تمہارا بھی وقت آ گیا ہے ، پھر اسے ایک سو حلے پہنائے جاتے ہیں ، جو انسانوں کے بنے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ جنت میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں اگر انہیں دو انگلیوں کے درمیان رکھا جائے تو وہ ان میں سما جائیں وہ یہ کہا: کرتے تھے : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9523
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہید کو قتل ہونے کی اتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جس طرح کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9524
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقٍ - نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ - يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہداء جنت کے دروازے پر موجود نہر بارق کے کنارے سبز قبے میں ہوں گے جنت میں سے ان کا رزق نکل کر صبح و شام ان کے پاس آئے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9525
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ : اللَّهُمَّ آتِنِي مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " . قَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِذًا يُعْقَرُ جَوَادُكَ وَتَسْتَشْهِدُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نماز ادا کرنے کے لئے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب وہ شخص صف تک پہنچا تو اس نے یہ کہا: اے اللہ ! تو مجھے وہ چیز عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو عطا کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : ابھی کلام کرنے والا شخص کون ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور تم جام شہادت نوش کر لو گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مسلم بن عائذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مسلم بن عائذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9526
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " مَنْ قُتِلَ مِنْكُمْ صَابِرًا مُقْبِلًا فَقُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : ” تم میں سے جو شخص صبر کرتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہے ، تو وہ جنت میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9527
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ يَوْمًا : " مَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : الْجَنَّةُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْجَنَّةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ : " فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ مَاتَ ، فَقَامَ رَجُلَانِ ذَوَا عَدْلٍ فَقَالَا : لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " الْجَنَّةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ : " فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ مَاتَ ؟ " . فَقَامَ رَجُلَانِ ذَوَا عَدَلَ فَقَالَا : لَا نَعْلَمُ خَيْرًا ، فَقَالُوا : النَّارُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُذْنِبٌ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ایسے شخص کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو ؟ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہے لوگوں نے عرض کی : وہ جنت میں جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا ، تو جنت میں جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے شخص کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو جو مر جاتا ہے اور پھر دو عادل افراد کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں : ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ بھی جنت جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ایسے شخص کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو ؟ جو مر جاتا ہے پھر دو عادل افراد اٹھ کر یہ کہتے ہیں ہمیں کی بھلائی کا علم نہیں ہے لوگوں نے عرض کی : وہ جہنم میں جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ گنہگار ہے اور اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9528
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہید کو قتل ہونے پر صرف اتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جس طرح کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹے پر محسوس ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9529
وَعَنْ جَابِرٍ يُبَلِّغُ بِهِ عَنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قُتِلَ يَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ لَمْ يُعَذِّبْهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان تک یہ روایت پہنچی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ کی رضا کے حصول کے لئے قتل ہو جائے اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہیں دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بکیر غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بکیر غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9530
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا وَقَفَ الْعَبْدُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِي سُيُوفِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا فَازْدَحَمُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَقِيلَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : الشُّهَدَاءُ كَانُوا أَحْيَاءً مَرْزُوقِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي الْبَعْثِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندہ حساب کے لئے رکے گا ، تو کچھ لوگ آئیں گے جنہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوئی ہوں گی ان کے خون کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے وہ جنت کے دروازے پر ہجوم کریں گے دریافت کیا جائے گا : یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: جائے گا : یہ شہداء ہیں یہ زندہ تھے اور انہیں رزق دیا جاتا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر اگر اللہ نے چاہا ، تو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آئے گی اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر اگر اللہ نے چاہا ، تو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آئے گی اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9531
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَبَارَزَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَتْلَهُ الْمُشْرِكُ ، ثُمَّ بَرَزَ لَهُ آخَرُ مَنِ الْمُسْلِمِينَ فَقَتْلَهُ الْمُشْرِكُ ، ثُمَّ جَاءَ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : عَلَى مَا تُقَاتِلُونَ ؟ فَقَالَ : " دِينُنَا أَنْ نُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ نَفِيَ لِلَّهِ بِحَقِّهِ " . قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَحَسَنٌ ، آمَنْتُ بِهَذَا ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ فَحَمَلَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَحُمِلَ ، فَوُضِعَ مَعَ صَاحِبَيْهِ الَّذَيْنِ قَتَلَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَؤُلَاءِ أَشَدُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَحَابًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَسَمَاعُ ابْنِ الْمُبَارَكِ مِنَ الْمَسْعُودِيِّ صَحِيحٌ ، فَصَحَّ الْحَدِيثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَإِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شریک ہوئے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مقابلے کے لئے للکارا پھر مشرک نے اس مسلمان کو قتل کر دیا مسلمانوں میں سے ایک اور شخص اس کے سامنے آیا مشرک نے اسے بھی قتل کر دیا پھر وہ شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا اور بولا: آپ لوگ کس بات پر جنگ کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارا دین یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کا حق پوری طرح ادا نہیں کرتے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بات تو اچھی ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں پھر وہ مڑ کر مسلمانوں کی طرف چلا گیا پھر اس نے مشرکین پر حملہ کیا اور جنگ کرتا رہا یہاں تک کہ قتل ہو گیا تو اس کی میت کو لا کر اس کے ان دو ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیا گیا جنہیں اس سے پہلے وہ قتل کر چکا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے یہ لوگ آپس میں سب سے زیادہ محبت رکھنے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ابن مبارک کا مسعودی سے سماع صحیح ہے ، تو اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ حدیث ” صحیح “ ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ابن مبارک کا مسعودی سے سماع صحیح ہے ، تو اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ حدیث ” صحیح “ ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔