مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي زَوْجَةِ الشَّهِيدِ باب: شہید کی بیوی کا بیان
عَنْ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ اسْتَشْهَدَ زَوْجِي وَخَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي إِذَا اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَهُ : مَا رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ هَذَا مُنْذُ قَاعَدْنَاكَ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى . وَسَلْمَى لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سلمی بنت جابر نامی خاتون بیان کرتی ہیں : ان کے شوہر نے جام شہادت نوش کر لیا وہ خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور بولیں : میں ایک ایسی خاتون ہوں کہ میرے شوہر نے جام شہادت نوش کر لیا ہے کچھ لوگوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے ، لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی کہ میں شادی کروں ، یہاں تک کہ میں اپنے شوہر سے جا ملوں ، تو کیا آپ میرے بارے میں یہ توقع رکھتے ہیں ؟ میں اور میرے شوہر جب ہم اکٹھے ہوں گے تو کیا میں اس کی بیویوں میں سے ایک ہوں گی ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود ایک شخص نے ان سے کہا: ہم جب سے آپ کے پاس بیٹھ رہے ہیں ہم نے کبھی بھی آپ کو اس طرح کی بات کہتے ہوئے نہیں سنا تو انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں سے ، جنت میں مجھ سے سب سے پہلے ملنے والی شخصیت احمس قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے سلمہ نامی راوی خاتون کو ثقہ قرار دیتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔