مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ وَفَضْلِهَا باب: شہادت اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنْ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ لَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا ، أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ : عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُلْقَوْنَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : شہداء میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ کہ جب وہ صف میں کھڑے ہوں ، تو ان کے چہرے مڑیں نہیں ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جائیں یہ لوگ جنت کے بالائی بالا خانوں میں چلیں گے اور ان کا پروردگار ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے گا ، اور جب پروردگار دنیا میں کسی بندے کی طرف دیکھ کر مسکرا دے تو اس بندے سے حساب نہیں لیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: شہداء میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جو پہلی صف میں شامل ہوتے ہیں : باقی روایت حسب سابق ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔