حدیث نمبر: 9512
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَا يُرِيدُ أَنْ يُقَاتِلَ وَلَا يُقْتَلَ ، يُكَثِّرُ سَوَادَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا وَأُجِيرَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَحَلَّتْ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَالْخُلْدِ . ¤ وَالثَّانِي خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يُقْتَلَ وَلَا يَقْتُلَ فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ كَانَتْ رُكْبَتُهُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ . ¤ وَالثَّالِثُ : خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ وَيُقْتَلَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ وَاضِعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَالنَّاسُ جَاثُونَ عَلَى الرُّكَبِ يَقُولُونَ : أَلَا افْسَحُوا لَنَا فَإِنَّا قَدْ بَذَلْنَا دِمَاءَنَا لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَالَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ أَوِ النَّبِيِّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَزَحَلَ لَهُمْ عَنِ الطَّرِيقِ لِمَا يَرَى مِنْ وَاجِبِ حَقِّهِمْ حَتَّى يَأْتُوا مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ لَا يَجِدُونَ غَمَّ الْمَوْتِ وَلَا يُقِيمُونَ فِي الْبَرْزَخِ وَلَا تُفْزِعُهُمُ الصَّيْحَةُ وَلَا يُهِمُّهُمُ الْحِسَابُ وَلَا الْمِيزَانُ وَلَا الصِّرَاطُ ، يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ وَلَا يَسْأَلُونَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ وَلَا يَشْفَعُونَ فِي شَيْءٍ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ ، وَيُعْطَوْنَ مِنَ الْجَنَّةِ مَا أَحَبُّوا وَيَتَبَوَّءُونَ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ أَحَبُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِشَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَانْ كَانَ هُوَ النَّيْسَابُورِيَّ فَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ جنگ کرنے کا یا قتل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا وہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے اگر وہ مر جاتا ہے یا قل ہو جاتا ہے ، تو اس کے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اسے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا ، اور گھبراہٹ سے امان میں رکھا جائے گا حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جائے گی اور کرامت کا حلہ اسے پہنایا جائے گا اس کے سر پر وقار کا اور خلد کا تاج رکھا جائے گا“ ۔ دوسرا وہ شخص ہے ، جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ قتل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ، تو اس کا گھٹنا ، سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہو گا ، جو اقتدار رکھنے والے بادشاہ کے نزدیک سچائی کا ٹھکانہ ہو گا ۔ تیسرا وہ شخص ہے ، جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ قتل کرے گا ، اور قتل ہو گا ، اور اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ، تو وہ قیامت کے دن اپنی تلوار لہراتے ہوئے اسے اپنے کندھے پر رکھ کر آئے گا لوگ اس وقت اپنے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ ( شہداء ) کہہ رہے ہوں گے : ہمارے لئے راستہ دو کیونکہ ہم نے اپنے خون اللہ کے لئے خرچ کیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ شخص یہ بات سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام یا اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی اور نبی سے بھی کہے گا ، تو وہ بھی اس کے لئے راستہ چھوڑ دیں گے ، کیونکہ وہ اس کے حق سے واجب ہونے والی چیز کو دیکھیں گے ، یہاں تک کہ وہ شہداء عرش کے نیچے نور کے منبروں کے پاس آ جائیں گے اور ان پر بیٹھ کر یہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے انہیں موت کا غم محسوس نہیں ہو گا وہ برزخ میں کھڑے نہیں ہوں گے چیخ چنگھاڑ انہیں خوف زدہ نہیں کرے گی حساب انہیں پریشان نہیں کرے گا میزان اور صراط انہیں پریشان نہیں کریں گے وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے وہ جو چیز مانگیں گے وہ انہیں دی جائے گی وہ جس کے بارے میں شفاعت کریں گے ان کی شفاعت قبول ہو گی جنت میں سے جو وہ پسند کریں گے وہ انہیں دیا جائے گا ، اور جنت میں جہاں وہ چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد محمد بن معاویہ کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اگر تو یہ نیشا پوری ہے ، تو پھر یہ متروک ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9512
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1715)»