حدیث نمبر: 9511
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - تَحْتَ عَرْشِهِ ، لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَمَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا ، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُقْتَلَ ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مقتول تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ مومن شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو ان کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے ، جو اللہ کے عرش کے نیچے اس کے خیمے میں موجود ہونے پر فخر کرنے والا ہو گا ، اور انبیاء کو صرف نبوت کے مرتبے کے حوالے سے اس پر فضیلت حاصل ہو گی ایک وہ مومن شخص جو گناہوں اور خطاؤں کے حوالے سے اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے پھر وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اس سے جنگ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جاتا ہے ، تو دہشت اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دے گی ، کیونکہ تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہوتی ہے ، وہ جس دروازے سے چاہے گا ، اُسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور ان میں سے بعض ، دوسروں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ منافق شخص ہے ، جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ قتل ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جائے گا ، کیونکہ تلوار منافقت کو نہیں مٹاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اس کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے بعض ، بعض سے افضل ہیں ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مثنی املوکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (185/4)»