حدیث نمبر: 9465
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ [ بِجَهَازِهِ ] كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَصَالِحُ بْنُ مُعَاذٍ شَيْخُ الْبَزَّارِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ مُنْقَطِعٌ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص غازی کے سر پر سایہ کرتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سایہ نصیب کرے گا جو ایک ایسا دن ہے کہ اس کے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، اور جو شخص کسی غازی کو سامان فراہم کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسے مکمل سامان فراہم کر دیتا ہے ، تو اسے اس غازی کی مانند اجر ملے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے صالح بن معاذ جو امام بزار کے استاد ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام أحمد کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1665) اخرجه ابو يعلي فى المسند (253) اخرجه احمد فى المسند (126 و 376)»