کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مجاہدین کی مدد کرنا
حدیث نمبر: 9462
عَنْ جَبَلَةَ - يَعْنِي ابْنَ حَارِثَةَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ أَعْطَى سِلَاحَهُ عَلِيًّا أَوْ أُسَامَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خود جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے ، تو اپنے ہتھیار سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9462
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1990) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2194)»
حدیث نمبر: 9463
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ ، أَوْ مَكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مدد کرتا ہے یا کسی غریب مقروض کی مدد کرتا ہے یا کسی غلام کو آزاد کرنے کے سلسلے میں اس کی مدد کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن اپنا سایہ عطا کرے گا جب اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سہل بن حنیف ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9463
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5590) أخرجه احمد فى المسند (241/3)»
حدیث نمبر: 9464
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ - أَوْ قَالَ : ضَخْمُ الشَّفَتَيْنِ - وَالْأَنْفِ ، وَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِلَاحٌ فَسَأَلُوهُ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . [ قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بِلَالٌ ] . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْوَرْدِ بْنُ ثُمَامَةَ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن مرداس بیان کرتے ہیں : میں شام آیا وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہونٹ موٹے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ( جن کے ہونٹ اور ناک بڑے تھے ان کے سامنے ہتھیار پڑے ہوئے تھے لوگ ان سے سوال کر رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے لوگو یہ ہتھیار حاصل کرو انہیں ٹھیک کرو ، اور اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ، تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوورد بن ثمامہ ہے اور وہ مستور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (13/6)»
حدیث نمبر: 9465
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ [ بِجَهَازِهِ ] كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَصَالِحُ بْنُ مُعَاذٍ شَيْخُ الْبَزَّارِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ مُنْقَطِعٌ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص غازی کے سر پر سایہ کرتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سایہ نصیب کرے گا جو ایک ایسا دن ہے کہ اس کے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، اور جو شخص کسی غازی کو سامان فراہم کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسے مکمل سامان فراہم کر دیتا ہے ، تو اسے اس غازی کی مانند اجر ملے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے صالح بن معاذ جو امام بزار کے استاد ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام أحمد کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1665) اخرجه ابو يعلي فى المسند (253) اخرجه احمد فى المسند (126 و 376)»
حدیث نمبر: 9466
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَأَنْ أُمَتَّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحُجَّ حَجَّةً بَعْدَ حَجَّةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اللہ کی راہ میں ایک کوڑا ( یا چھڑی ) دے دوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ایک حج کے بعد دوسرا حج کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8575 و 9185)»