حدیث نمبر: 9464
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ - أَوْ قَالَ : ضَخْمُ الشَّفَتَيْنِ - وَالْأَنْفِ ، وَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِلَاحٌ فَسَأَلُوهُ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . [ قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بِلَالٌ ] . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْوَرْدِ بْنُ ثُمَامَةَ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن مرداس بیان کرتے ہیں : میں شام آیا وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہونٹ موٹے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ( جن کے ہونٹ اور ناک بڑے تھے ان کے سامنے ہتھیار پڑے ہوئے تھے لوگ ان سے سوال کر رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے لوگو یہ ہتھیار حاصل کرو انہیں ٹھیک کرو ، اور اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ، تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوورد بن ثمامہ ہے اور وہ مستور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (13/6)»