مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جِدَارٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِينَا عَدُوَّنَا فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ بَيْنَ أَخْضَرَ وَأَصْفَرَ وَأَحْمَرَ وَفِي الرِّحَالِ مَا فِيهَا ، فَإِذَا لَقِيتُمْ عَدُوَّكُمْ فَقُدُمًا قُدُمًا، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْ إِلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَإِذَا اسْتُشْهِدَ فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَقَعُ إِلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ وَيَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ يَقُولَانِ : قَدْ أَنَى لَكَ وَيَقُولُ : قَدْ أَنَى لَكَمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا جدار رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا جب ہم دشمن کے مد مقابل آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگ سبز ، زرد اور سرخ کے درمیان ہو اور رہائشی جگہوں کے درمیان ہو جب تم دشمن کا سامنا کرو گے تو پیش قدمی کرنا ، کیونکہ جو شخص اللہ کی راہ میں آگے بڑھتا ہے ، تو حورعین سے تعلق رکھنے والی دو حوریں لپک کر اس کی طرف آتی ہیں ، جب وہ جام شہادت نوش کرتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کے ہر گناہ کو ختم کر دیتا ہے وہ دونوں حوریں اس شخص کے چہرے سے غبار کو پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت ہو گیا ہے ، تو وہ شخص یہ کہتا ہے ، تمہارا بھی وقت آ گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شہادت کی فضیلت کے بارے میں اس کی مانند ایک روایت یزید بن شجرہ سے منقول ہے ، جو آگے آئے گی ۔