مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَمَاتَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، هَاجَرَ أَوْ قَعَدَ فِي مَوْلِدِهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَّثْتُ بِهَا النَّاسَ يَطَمَئِنُّوا عَلَيْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَلَوْ كَانَ عِنْدِي مَا أُنْفِقُ بِهِ وَأُقَوِّي الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ بِأَيْدِيهِمْ مَا يُنْفِقُونَ مَا انْطَلَقَتْ سَرِيَّةٌ إِلَّا كُنْتُ صَاحِبَهَا ، وَلَكِنْ لَيْسَ ذَاكَ بِيَدِي وَلَا بِأَيْدِيهِمْ وَلَوْ خَرَجْتُ مَا بَقِيَ أَحَدٌ فِيهِ إِلَّا انْطَلَقَ مَعِي وَذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ وَلَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ يُوسُفَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے اور ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے ، خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا اپنی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہا ہو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں نے لوگوں کو یہ بات بیان کر دی تو وہ اسی بات پر مطمئن ہو جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے لوگوں کے لئے ایک سو درجات بنائے ہیں جن میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے اگر میرے پاس وہ چیز ہو جسے میں خرچ کر سکوں اور مسلمانوں کو قوت دے سکوں یا ان لوگوں کے پاس وہ چیز ہو جسے وہ خرچ کر سکیں ، تو جو بھی جنگی مہم جائے میں اس میں ضرور شریک ہوں لیکن نہ میرے پاس اس کی گنجائش ہے نہ لوگوں کے پاس اس کی گنجائش ہے اگر میں نکل کھڑا ہوتا ہوں ، تو ان میں سے ہر ایک شخص میرے ساتھ نکلے گا ، اور یہ بات میرے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی اور ان کے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی میری یہ خواہش ہے کہ میں جنگ میں حصہ لوں اور پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر میں جنگ میں حصہ لوں پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کر دیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن یوسف ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔