حدیث نمبر: 9409
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُنْجِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اللہ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے پریشانی اور غم سے نجات دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9410
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں سے ایک دروازہ ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم رخصت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9411
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ بِالنَّاسِ قَبْلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا، فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ عَلَى أَثَرِ الدُّلْجَةِ ، وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو أَثَرَهُ ، وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ تَأْكُلُ وَتَسِيرُ ، فَبَيْنَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً وَتَسِيرُ أُخْرَى عَثَرَتْ نَاقَةُ بِلَالٍ ، فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ فَهَبَّتْ حَتَّى تَقْرُبَ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَشَفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْجَيْشِ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "يَا مُعَاذُ " . فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " ادْنُ دُونَكَ " فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتَاهُمَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "مَا كُنْتُ أَحْسَبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنَ الْبُعْدِ" . فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا" . فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بِشْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَلْوَتَهُ لَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَسْأَلْكَ عَنْ كَلِمَةٍ أَمْرَضَتْنِي وَأَسْقَمَتْنِي وَأَحْزَنَتْنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلْ عَمَّا شِئْتَ" . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "بَخٍ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ - ثَلَاثًا - وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ " فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِكَيْمَا يُتْقِنَهُ عَنْهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدْ لِي فَأَعَادَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتَ يَا مُعَاذُ حَدَّثْتُكَ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقِوَامِ هَذَا الْأَمْرِ وَذِرْوَةِ السَّنَامِ" . فَقَالَ مُعَاذٌ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ رَأْسَ هَذَا الْأَمْرِ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِنَّ قِوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَإِنَّ ذُرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدِ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَحُبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تَبْتَغِي فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا ثَقَّلَ مِيزَانَ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تُنْفَقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے صبح کے وقت آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی لوگ روانہ ہوئے جب سورج طلوع ہونے والا تھا ، تو رات کے جاگنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے پیچھے چلنے لگ گئے ۔ لوگوں کی سواریاں عام راستے سے ہٹ کر ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ سواریاں کھا بھی رہی تھیں اور چل بھی رہی تھیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ان کی اونٹنی کبھی کھا لیتی تھی کبھی چل پڑتی تھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی ، انہوں نے اسے لگام کے ذریعے کھینچا تو وہ تیز ہوئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے قریب پہنچ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا ہٹا کے دیکھا تو لشکر کا کوئی بھی فرد آپ کے پاس موجود نہیں تھا صرف سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکار کر فرمایا : اے معاذ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور قریب ہو جاؤ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قریب ہو گئے ، یہاں تک کہ ان دونوں کی اونٹنیاں ایک دوسرے کے پاس ہو گئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا یہ خیال نہیں تھا کہ لوگ مجھ سے اتنی دور ہوں گے جتنے ہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ اونگھنے لگ پڑے تھے ، تو سواریاں ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ چل بھی رہی ہیں اور چر بھی رہی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اونگھنے لگ گیا تھا ۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کی خوشگواری دیکھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا پایا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کروں جس نے مجھے مریض کر دیا ہے بیمار کر دیا ہے غمگین کر دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس چیز کے بارے میں چاہو دریافت کر لو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے میں نے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت اچھے بہت اچھے بہت اچھے تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا ) یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات کو تین مرتبہ دہرا رہے تھے یہ خواہش رکھتے ہوئے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اسے اہتمام کے ساتھ محفوظ کریں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھو تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ یہاں تک کہ جب تم مرو تو اسی عالم ، میں ہو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اسی بات کو دہرا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس معاملے کے سرے اور اس معاملے کی مضبوط چیز اور اس کی کوہان کی چوٹی کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! آپ مجھے بتائیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے کا سرا یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اس معاملے کی چوٹی ( یعنی اہم ترین چیز ) نماز قائم کرنا زکوۃ ادا کرنا ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ مضبوطی سے تھام لیں گے اور وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، کسی بھی چہرے کی رنگت تبدیل نہیں ہوتی اور کوئی بھی قدم کسی عمل کے حوالے سے غبار آلود نہیں ہوتا ، جس کے ذریعے تم جنت کے درجات تلاش کرنا چاہو ، تو فرض نماز کے بعد کوئی ایسا عمل نہیں ہے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی مانند ہو اور کوئی بھی عمل بندے کے میزان کو اس طرح وزنی نہیں کرتا جو اس جانور کی مانند ہو ، جس پر تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو ، یا جسے تم اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دے دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9412
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْإِسْلَامُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ : سُفْلَى وَعُلْيَا وَغُرْفَةٌ ، فَأَمَّا السُّفْلَى فَالْإِسْلَامُ دَخَلَ فِيهِ عَامَّةُ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُسْأَلُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ : أَنَا مُسْلِمٌ . وَأَمَّا الْعُلْيَا فَتَفَاضُلُ أَعْمَالِهِمْ ، بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ . وَأَمَّا الْغُرْفَةُ الْعُلْيَا فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا أَفْضَلُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اسلام کے تین درجہ ہیں زیریں ، بالائی اور بالاخانہ جہاں تک زیریں علاقے کا تعلق ہے ، تو وہ اسلام ہے ، جس میں عام مسلمان داخل ہوتے ہیں ان میں سے جس کسی سے بھی سوال کیا جائے گا ، تو وہ کہے گا میں مسلمان ہوں جہاں تک بالائی درجہ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد ان کے اعمال میں تفاضل ہے بعض مسلمان دوسروں سے فضیلت رکھتے ہیں جہاں تک بالائی بالا خانے کا تعلق ہے ، تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے اس مقام تک صرف ان میں سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ پہنچتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبدالملک کی قاسم کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوعبدالملک سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبدالملک کی قاسم کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوعبدالملک سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9413
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ذُرْوَةُ سَنَامِ الْإِسْلَامِ الْجِهَادُ لَا يَنَالُهُ إِلَّا أَفْضَلُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کی کوہان کی چوٹی جہاد ہے اس تک ان میں سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9414
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ ، فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبَلِّغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ ؟ فَقَالَ لَهَا : " أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ ؟ " قَالَتْ : مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طِقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشُورَ مِنْ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا شوہر جنگ میں حصہ لینے کے لئے چلا گیا ہے میں اس کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتی تھی جب وہ نماز ادا کیا کرتا تھا ، اور ہر کام میں اس کی اقتداء کیا کرتی تھی اب آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جو مجھے اس کے عمل تک پہنچا دے جب تک وہ واپس نہیں آتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے ارشاد فرمایا کیا تم یہ استطاعت رکھتی ہو کہ جب تک وہ واپس نہیں آتا اس وقت تک تم مسلسل نفل پڑھتی رہو بیٹھو نہیں مسلسل نفلی روزہ رکھو کوئی روزہ چھوڑو نہیں اور مسلسل اللہ کا ذکر کرتی رہو اس میں وقفہ نہ ہو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم اس عمل کی طاقت رکھتی بھی ہوتی تو بھی تم اس کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 9415
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعُمَرَ وَعَمَّارٍ ابْنَيْ حَفْصٍ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ أَجْدَادِهِمْ قَالُوا : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِينَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَ نَفْسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَمُوتَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا بِلَالُ وَحُرْمَتِي وَحَقِّي لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَاقْتَرَبَ أَجْلِي . فَأَقَامَ بِلَالٌ مَعَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَةِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَى بِلَالٌ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ : فَمَنْ يَا بِلَالُ ؟ قَالَ : إِلَى سَعْدٍ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ بِقُبَاءٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ عُمَرُ الْأَذَانَ إِلَى عُقْبَةَ وَسَعْدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن محمد ، عمر اور عمار جو حفص کے صاحبزادے ہیں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل ایمان کے عمل میں سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔ تو میں نے یہ ارادہ کیا ہے میں اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں مر جاؤں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے بلال ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنی حرمت اور اپنے حق کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ میری عمر زیادہ ہو گئی ہے میری قوت کمزور ہو گئی ہے میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے ) آپ مجھے چھوڑ کر نہ جائیں ) تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے بھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے وہی بات کہی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بلال ! پھر کون ؟ ( اذان دے گا ؟ ) انہوں نے جواب دیا : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قباء میں اذان دیا کرتے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اذان دینے کی ذمہ داری سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سہل بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سہل بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9416
وَعَنْ جِدَارٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِينَا عَدُوَّنَا فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ بَيْنَ أَخْضَرَ وَأَصْفَرَ وَأَحْمَرَ وَفِي الرِّحَالِ مَا فِيهَا ، فَإِذَا لَقِيتُمْ عَدُوَّكُمْ فَقُدُمًا قُدُمًا، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْ إِلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَإِذَا اسْتُشْهِدَ فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَقَعُ إِلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ وَيَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ يَقُولَانِ : قَدْ أَنَى لَكَ وَيَقُولُ : قَدْ أَنَى لَكَمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جدار رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا جب ہم دشمن کے مد مقابل آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگ سبز ، زرد اور سرخ کے درمیان ہو اور رہائشی جگہوں کے درمیان ہو جب تم دشمن کا سامنا کرو گے تو پیش قدمی کرنا ، کیونکہ جو شخص اللہ کی راہ میں آگے بڑھتا ہے ، تو حورعین سے تعلق رکھنے والی دو حوریں لپک کر اس کی طرف آتی ہیں ، جب وہ جام شہادت نوش کرتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کے ہر گناہ کو ختم کر دیتا ہے وہ دونوں حوریں اس شخص کے چہرے سے غبار کو پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت ہو گیا ہے ، تو وہ شخص یہ کہتا ہے ، تمہارا بھی وقت آ گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شہادت کی فضیلت کے بارے میں اس کی مانند ایک روایت یزید بن شجرہ سے منقول ہے ، جو آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شہادت کی فضیلت کے بارے میں اس کی مانند ایک روایت یزید بن شجرہ سے منقول ہے ، جو آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 9417
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَمَاتَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، هَاجَرَ أَوْ قَعَدَ فِي مَوْلِدِهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَّثْتُ بِهَا النَّاسَ يَطَمَئِنُّوا عَلَيْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَلَوْ كَانَ عِنْدِي مَا أُنْفِقُ بِهِ وَأُقَوِّي الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ بِأَيْدِيهِمْ مَا يُنْفِقُونَ مَا انْطَلَقَتْ سَرِيَّةٌ إِلَّا كُنْتُ صَاحِبَهَا ، وَلَكِنْ لَيْسَ ذَاكَ بِيَدِي وَلَا بِأَيْدِيهِمْ وَلَوْ خَرَجْتُ مَا بَقِيَ أَحَدٌ فِيهِ إِلَّا انْطَلَقَ مَعِي وَذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ وَلَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ يُوسُفَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے اور ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے ، خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا اپنی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہا ہو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں نے لوگوں کو یہ بات بیان کر دی تو وہ اسی بات پر مطمئن ہو جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے لوگوں کے لئے ایک سو درجات بنائے ہیں جن میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے اگر میرے پاس وہ چیز ہو جسے میں خرچ کر سکوں اور مسلمانوں کو قوت دے سکوں یا ان لوگوں کے پاس وہ چیز ہو جسے وہ خرچ کر سکیں ، تو جو بھی جنگی مہم جائے میں اس میں ضرور شریک ہوں لیکن نہ میرے پاس اس کی گنجائش ہے نہ لوگوں کے پاس اس کی گنجائش ہے اگر میں نکل کھڑا ہوتا ہوں ، تو ان میں سے ہر ایک شخص میرے ساتھ نکلے گا ، اور یہ بات میرے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی اور ان کے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی میری یہ خواہش ہے کہ میں جنگ میں حصہ لوں اور پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر میں جنگ میں حصہ لوں پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کر دیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن یوسف ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن یوسف ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9418
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ ، وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال دن کے وقت روزہ رکھنے اور رات کے وقت نوافل پڑھنے والے شخص کی مانند ہے جب تک وہ ( مجاہد ) واپس نہیں آ جاتا خواہ وہ جب بھی واپس آئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9419
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُ الصَّائِمِ الْقَانِتِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مثال اس روزہ دار کی مانند ہے ، جو نوافل پڑھتا ہے اور اپنے روزے اور نماز اور صدقے میں کوئی وقفہ نہیں کرتا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9420
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے جتنے وقت کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9421
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مُكَاتَبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ : مَا أَنْتَ بِدَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ ، فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : "مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ ان کا مکاتب غلام کتابت کی بقیہ رقم لے کر ان کے پاس آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا : اب اس مرتبہ کے بعد تم میرے ہاں نہیں آ سکو گے تم پر لازم ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس بھی مسلمان کے دل میں اللہ کی راہ میں غبار آ جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9422
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَجَفَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ عِذْقُ النَّخْلَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ کی راہ میں مومن کا دل خوف کا شکار ہوتا ہے ، تو اس شخص کے گناہ یوں جھڑتے ہیں ، جس طرح کھجور کی شاخیں جھڑتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9423
وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا هَلَكَ ، فَصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ فَاجِرٌ فَلَا تُصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ اللَّيْلَةَ الَّتِي صَبَّحْتَ فِيهَا فِي الْحَرَسِ فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ تَبِعَهُ حَتَّى جَاءَ قَبْرَهُ فَقَعَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُ حَثَا عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ قَالَ : "تُثْنِي عَلَيْكَ النَّاسُ سُوءًا وَأُثْنِي عَلَيْكَ خَيْرًا" . فَقَالَ عُمَرُ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْنَا مِنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ ثَعْلَبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ فاجر شخص تھا آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ، اس رات کو ملاحظہ نہیں فرمایا تھا ، جس میں آپ نے حفاظت کرتے ہوئے صبح کی تھی تو حفاظت کرنے والوں میں وہ فرد بھی شامل تھا ( یعنی جب پہرا دینے کی ضرورت پیش آئی تھی تو وہ بھی پہریداروں میں سے ایک تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ میت کے ساتھ گئے ، یہاں تک کہ اس کی قبر کے پاس تشریف لائے آپ وہاں تشریف فرما ہوئے جب اسے دفن کر دیا گیا تو آپ نے اس پر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے مٹی ڈالی اور پھر ارشاد فرمایا : لوگ تمہارے بارے میں بری تعریف کرتے ہیں میں تمہاری بھلائی کے ساتھ تعریف کرتا ہوں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم ہمیں رہنے دو ! جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ثعلب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ثعلب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9424
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا خَرَجَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ جُعِلَتْ ذُنُوبُهُ جِسْرًا عَلَى بَابِ بَيْتِهِ فَإِذَا خَلَّفَهُ خَلَّفَ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا فَلَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ مِنْهَا مِثْلُ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ ، وَتَكَفَّلَ اللَّهُ لَهُ بِأَرْبَعٍ ؛ بِأَنْ يَخْلُفَهُ فِيمَا يُخْلِفُ مِنْ أَهْلٍ وَمَالٍ، وَأَيُّ مِيتَةٍ مَاتَ بِهَا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، وَأَيُّ رِدَّةٍ رَدَّهُ رَدَّهُ سَالِمًا بِمَا نَالَهُ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَلَا تَغْرُبُ شَمْسٌ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ کی راہ میں غازی نکلتا ہے ، تو اس کے گناہوں کو اس کے گھر کے دروازے پر رکھ دیا جاتا ہے جب وہ دروازہ چھوڑ کر آگے جاتا ہے ، تو وہ اپنے تمام گناہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ان گناہوں میں سے مکھی کے پر جتنا کوئی گناہ بھی باقی نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے چار چیزوں کا کفیل بن جاتا ہے ایک یہ کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مال میں سے جو کچھ چھوڑ کے جا رہا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نگہبانی کرے گا ، اور وہ شخص جس حالت میں بھی مرا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اور وہ شخص جس بھی حالت میں واپس آیا ، تو اللہ تعالیٰ اسے سلامتی کے ساتھ واپس لائے گا ، اور اسے اجر بھی حاصل ہو گا ، اور غنیمت بھی حاصل ہو گی ، اور جب سورج غروب ہوتا ، تو اس کے گناہوں سمیت غروب ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9425
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَخْرُجُ اللَّيْلَةَ أَوْ نَمْكُثُ حَتَّى نُصْبِحَ ؟ قَالَ : " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَبِيتُوا فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم کی روانگی کا حکم دیا ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم رات کے وقت نکل جائیں یا ظہر جائیں ، یہاں تک کہ صبح نکلیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم جنت میں میرے چنتے ہوئے رات بسر کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ بھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ بھی ہے ۔
حدیث نمبر: 9426
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ثُمَّ قَالَ بِأَصَابِعِهِ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ - الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ - فَجَمَعَهُنَّ وَقَالَ : " وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ ؟ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، أَوْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ وَقْعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . وَاللَّهِ إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ قُتِلَ فَقَضَى فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا درمیانی انگلی شہادت کی انگلی اور انگوٹھا ، آپ نے انہیں اکٹھا کیا اور فرمایا : جہاد کرنے والے لوگ کہاں ہیں ( پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : ) ” اگر وہ شخص اپنی سواری سے گر کے مر جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اگر کوئی جانور اسے ڈنک مار لے اور وہ مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اگر وہ طبعی موت مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ کلمہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں سے کسی کی زبانی نہیں سنا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اگر وہ شخص مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اور جو شخص شہید ہو اور وہ اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دے تو وہ اس چیز کو واجب کروا لیتا ہے ، جو ( بہتر ) انجام ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، جو مدلس ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، جو مدلس ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9427
وَعَنْ مُعَاذٍ - يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ - قَالَ : عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيزَهُ وَتَوْقِيرَهُ ، أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَسَلِمَ وَسَلِمَ النَّاسُ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پانچ چیزوں کے بارے میں عہد لیا تھا کہ جو شخص ان میں سے کوئی ایک کام بھی کرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا جو شخص بیمار کی عیادت کرے یا جنازے کے ساتھ جائے یا اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے یا کسی حکمران کے پاس جائے اور اس کا مقصد اس کی مدد کرنا اور اس کی تعظیم کرنا ہو یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور سلامت رہے اور لوگ اس کے حوالے سے سلامت رہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 9428
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا يَأْتِي عَلَى الْحَيِّ فَيُحَدِّثُهُمْ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِضَاعَتَنَا ثُمَّ قُلْتُ : لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا قَالَ : " إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزَةً وَصِيصَتَهَا الَّتِي تَنْسِجُ بِهَا " . قَالَ : " فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصَتَهَا قَالَتْ : يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصَتِي وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصَتِي" . قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ لَهُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصَتُهَا وَمِثْلُهَا وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ " . قَالَ : قُلْتُ : بَلْ أُصَدِّقُكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : طفادہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا وہ قبیلے میں تشریف لا کر ان لوگوں کو حدیث بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ایک قافلے کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ہم لوگوں نے اپنا سامان فروخت کر دیا پھر میں نے سوچا کہ مجھے ان صاحب کے پاس جانا چاہیے میں ان کے پاس جا کر ان کے حالات معلوم کرتا ہوں وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا : اس گھر میں ایک عورت ہوتی تھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک جنگی مہم کے لئے نکلی اس نے اپنے پیچھے بارہ بکریاں چھوڑیں اور اپنا کپڑا بننے کا آلہ چھوڑا ، جس کے ذریعے وہ بنتی تھی ، ( جب وہ واپس آئی ) تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو غیر موجود پایا ، اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ، تو عرض کی : اے میرے پروردگار ! جو تیری راہ میں نکلتا ہے ، تو نے اسے یہ ضمانت دی ہے کہ تو اس کی حفاظت کرتا ہے ، تو میں نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ہے ، تو میں اپنی بکری اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کے بارے میں تجھے واسطہ دیتی ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کی شدت کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اس کے پاس ایک بکری اور اس کی مانند ایک مزید بکری بھی اور ایک کپڑا بننے کا آلہ اور اس کی مانند ایک مزید آلہ بھی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس عورت کے پاس جا کر اُس سے اس بارے میں دریافت کر سکتے ہو ، اگر تم چاہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے عرض کی : بلکہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9429
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خِصَالٌ سِتٌّ مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَفَى وَاحِدَةً مِنْهُنَّ إِلَّا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ : رَجُلٌ خَرَجَ مُجَاهِدًا فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَبِعَ جَنَازَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَرَجُلٌ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَسْجِدٍ لِصَلَاةٍ فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَرَجُلٌ فِي بَيْتِهِ لَا يَغْتَابُ الْمُسْلِمِينَ وَلَا يَجُرُّ إِلَيْهِمْ سَخَطًا وَلَا نِقْمَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” چھ کام ہیں ، جو بھی مسلمان ان میں سے جو بھی پورا کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے وہ شخص جو جہاد کرنے کے لئے نکلے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو جنازے کے ساتھ جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف چل کے جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا ، اور وہ شخص جو اپنے گھر میں رہے اور مسلمانوں کی غیبت نہ کرے اور ان کی طرف ناراضگی نہ لے کر جائے اور ان کی طرف انتقام نہ لے کر جائے اور اگر وہ اس دوران مر جاتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9430
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حُرِمَ أَحَدُكُمُ الزَّوْجَةَ وَالْوَلَدَ فَعَلَيْهِ بِالْجِهَادِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص بیوی اور اولاد سے محروم ہو ، تو اس پر جہاد کرنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حاطب ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حاطب ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9431
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةً ، وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ " . ¤ وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر امت کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زید العمی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہر نبی کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زید العمی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9432
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ سِيَاحَةً وَإِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتَيِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةً ، وَرَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي الرِّبَاطُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر امت کی مخصوص سیاحت ہوتی ہے اور میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ہر امت کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور میری امت کی رہبانیت دشمن کے مدمقابل پہرا دینا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9433
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ صِفِّينَ : الْجَنَّةُ تَحْتَ الْآبَارِ ، قِفُوا الظَّمْآنَ يَرِدِ الْمَاءُ مَوَارِدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے جنگ صفین کے دن انہوں نے ارشاد فرمایا : جنت کنووں کے نیچے ہے تم لوگ پیاسے کھڑے رہو ! پانی اپنے گھاٹ تک پہنچ جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9434
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمُ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" . ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ۔ آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہہ رہے تھے یا رسول اللہ ! اعمال میں کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج پھر آپ نے نشیبی حصے میں ایک آواز سنی وہ شخص یہ کہہ رہا تھا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس ( بات ) کی گواہی دے گا وہ شرک سے لا تعلق ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9435
وَعَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ - وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ : "إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ شفاء رضی اللہ عنہا عبداللہ رضی اللہ عنہ جو مہاجر خواتین میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ پر ایمان رکھنا اللہ کی راہ جہاد کرنا اور مبرور حج “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9436
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ : " وَأَهْوَنُ عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " وَأَهْوَنُ عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ عَلَى شَيْءٍ قَضَاهُ عَلَيْكَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان رکھنا اس کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج جب وہ شخص مڑ کر جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے بھی زیادہ تمہارے لئے آسان یہ ہے کہ کھانا کھلانا نرم گفتگو کرنا اور اچھے اخلاق جب وہ شخص جانے لگا ، تو آپ نے فرمایا : اس سے بھی زیادہ تمہارے لئے آسان یہ ہے کہ تم اللہ سے کسی ایسی چیز کے بارے میں شکوہ نہ کرو کہ جو فیصلہ اس نے تمہارے خلاف دیا ہو ( یعنی جو تمہیں ناپسند ہو ) ۔
حدیث نمبر: 9437
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ الرَّجُلَ هُوَ الَّذِي قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : " السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَفِي الْآخَرِ : سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَتَيْنِ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی زیادہ آسان چیز کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نرمی اور صبر ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ہے جسے دو روایات کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ہے جسے دو روایات کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9438
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اسْتَوَى عَلَيْهِ ، أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " رَجُلٌ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ضَعِيفٌ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو مخلوق میں سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور جب بھی وہ کوئی خوف زدہ کرنے والی بات سنتا ہے ، تو اس پر سوار ہو جاتا ہے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے شخص کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص جو بکریوں کے ریوڑ میں ہوتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے اور زکوۃ ادا کرتا ہے اور کیا میں تمہیں مخلوق کے سب سے برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ اس کے نام پر نہ دے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابومعشر نجیح نامی راوی ضعیف ہے اور ابومعشر جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابومعشر نجیح نامی راوی ضعیف ہے اور ابومعشر جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9439
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَزَكَّاهُ هُوَ وَشَرِيكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ پر ایمان رکھنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ بن ابوثور ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور انہوں نے اور شریک نے اسے پاکیزہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ بن ابوثور ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور انہوں نے اور شریک نے اسے پاکیزہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9440
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَجَّةٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ غَزْوَةٍ وَغَزْوَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ حَجَّةٍ " . ¤ يَقُولُ : إِذَا حَجَّ الرَّجُلُ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ فَغَزْوَةٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعِينَ حَجَّةً ، وَحَجَّةُ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ غَزْوَةٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَهَّلَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک حج چالیس غزوات سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور ایک غزوہ چالیس حج سے زیادہ بہتر ہوتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص فرض حج کر چکا ہو ، تو ایک غزوہ اس کے لئے چالیس مرتبہ حج کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور فرض حج چالیس مرتبہ غزوہ میں شرکت کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عنبسہ بن ہبیرہ نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے اسے مجہول کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عنبسہ بن ہبیرہ نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے اسے مجہول کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 9441
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ : فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ ، وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ : لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ ، فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ ، وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں حصہ لینے کے لئے نکلے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک شخص کا گزر ایک غار کے پاس سے ہوا جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا اس شخص نے یہ سوچا کہ وہ اس غار میں مقیم ہو جاتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے اسے خوراک فراہم کرتا رہے گا وہ آس پاس کی سبزیاں حاصل کر لے گا ، اور وہ دنیا سے لاتعلق ہو جائے گا پھر اس نے سوچا کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کے سامنے یہ بات ذکر کرنی چاہیے اگر آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں ایسا کر لوں گا ، اور اگر اجازت نہ دی تو میں ایسا نہیں کروں گا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرا گزر ایک غار کے پاس سے ہوا جس میں پانی اور سبزیوں کے حوالے سے میری خوراک کا بندوبست موجود تھا میں نے یہ سوچا کہ میں اس میں مقیم ہو جاتا ہوں اور دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہودیت یا عیسائیت کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ مجھے آسان حنفیت کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اللہ کی راہ میں صبح کے وقت جانا یا شام کے وقت جانا دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور تم میں سے کسی ایک شخص کا صف میں کھڑا ہونا اس کے ساٹھ سال تک ( نفل ) نمازیں ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9442
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشِعْبٍ مِنْ مَاءٍ فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ فَقَالَ : لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِي ذَلِكَ الشِّعْبِ ، وَلَنْ أَفْعَلَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مَقَامِهِ فِي بَيْتِهِ سِتِّينَ عَامًا - أَوْ كَذَا عَامًا - مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي فَضْلِ مَقَامِ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ لِلْقِتَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا گزر ایک گھاٹی کے پاس سے ہوا جس میں پانی موجود تھا انہیں وہاں کی پاکیزگی اچھی لگی تو انہوں نے یہ سوچا کہ اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاؤں اور اس گھاٹی میں مقیم ہو جاؤں ( تو یہ مناسب ہو گا ) لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ کے رسول سے اجازت نہیں لے لیتا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اللہ کی راہ میں کھڑے ہونا اس کے لئے اس کے اپنے گھر میں ساٹھ سال تک کھڑے ہونے ( یا نوافل ادا کرنے ) سے زیادہ بہتر ہے ( یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے کے جتنے وقت کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آدمی کے جنگ کے لئے صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت کے بارے میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ منقول حدیث آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آدمی کے جنگ کے لئے صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت کے بارے میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ منقول حدیث آگے آئے گی ۔