مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعُمَرَ وَعَمَّارٍ ابْنَيْ حَفْصٍ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ أَجْدَادِهِمْ قَالُوا : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِينَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَ نَفْسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَمُوتَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا بِلَالُ وَحُرْمَتِي وَحَقِّي لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَاقْتَرَبَ أَجْلِي . فَأَقَامَ بِلَالٌ مَعَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَةِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَى بِلَالٌ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ : فَمَنْ يَا بِلَالُ ؟ قَالَ : إِلَى سَعْدٍ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ بِقُبَاءٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ عُمَرُ الْأَذَانَ إِلَى عُقْبَةَ وَسَعْدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبداللہ بن محمد ، عمر اور عمار جو حفص کے صاحبزادے ہیں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل ایمان کے عمل میں سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔ تو میں نے یہ ارادہ کیا ہے میں اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں مر جاؤں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے بلال ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنی حرمت اور اپنے حق کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ میری عمر زیادہ ہو گئی ہے میری قوت کمزور ہو گئی ہے میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے ) آپ مجھے چھوڑ کر نہ جائیں ) تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے بھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے وہی بات کہی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بلال ! پھر کون ؟ ( اذان دے گا ؟ ) انہوں نے جواب دیا : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قباء میں اذان دیا کرتے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اذان دینے کی ذمہ داری سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سہل بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔