مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ ، فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبَلِّغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ ؟ فَقَالَ لَهَا : " أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ ؟ " قَالَتْ : مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طِقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشُورَ مِنْ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا شوہر جنگ میں حصہ لینے کے لئے چلا گیا ہے میں اس کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتی تھی جب وہ نماز ادا کیا کرتا تھا ، اور ہر کام میں اس کی اقتداء کیا کرتی تھی اب آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جو مجھے اس کے عمل تک پہنچا دے جب تک وہ واپس نہیں آتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے ارشاد فرمایا کیا تم یہ استطاعت رکھتی ہو کہ جب تک وہ واپس نہیں آتا اس وقت تک تم مسلسل نفل پڑھتی رہو بیٹھو نہیں مسلسل نفلی روزہ رکھو کوئی روزہ چھوڑو نہیں اور مسلسل اللہ کا ذکر کرتی رہو اس میں وقفہ نہ ہو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم اس عمل کی طاقت رکھتی بھی ہوتی تو بھی تم اس کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔