مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ باب: اس شخص کا بیان ، جو ایک تیر پھینکتا ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أُحُدِيًّا وَهُوَ صَائِمٌ يَتَلَوَّى مِنَ الْعَطَشِ وَهُوَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ : وَيْحَكَ تَرِّسْنِي، فَتَرَّسَهُ الْغُلَامُ حَتَّى نَزَعَ بِسَهْمٍ نَزْعًا ضَعِيفًا حَتَّى رَمَى بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ - كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَقُتِلَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ بدری بھی ہیں عقبی بھی ہیں احدی بھی ہیں ( یعنی انہیں غزوہ بدر بیعت عقبہ اور غزوہ اُحد میں شرکت کا شرف حاصل ہے ) انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ، اور پیاس کی شدت کی وجہ سے وہ زبان موڑ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم مجھے ترکش پکڑاؤ ان کے غلام نے انہیں ترکش پکڑایا انہوں نے تیر نکالا جس ( نکالنے ) میں کمزوری تھی اور پھر انہوں نے تین تیر پھینکے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے خواہ وہ نشانے تک پہنچے یا پہنچے تو یہ چیز قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ صحابی سورج غروب ہونے سے پہلے شہید ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔