مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ النَّسَبِ . باب: علم نسب کا بیان
وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : حَضَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُضَاعَةُ مِنْ حِمْيَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ وَالِدَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤ربیع بن سبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں ” معد “ ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو فرد موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قضاعہ کا تعلق حمیر سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعبید دراور دی کا معاملہ مختلف ہے ، جو عبدالعزیز کے والد ہیں ، میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔