حدیث نمبر: 938
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ أَيْضًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " . فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " اجْلِسْ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّنْ نَحْنُ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ ، النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ " . فَقَالَ عَمْرٌو : فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى كَانَ أَيَّامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَبَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ : هَلْ لَكَ أَنْ تَرْقَى الْمِنْبَرَ ، فَتَذْكُرَ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ ، عَلَى أَنْ أُطْعِمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتِي ؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : نَعَمْ . فَنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، وَجَاءَ عَمْرٌو يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ ، أَلَا إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ دَعَانِي عَلَى أَنْ أَرْقَى الْمِنْبَرَ ، فَأَذْكُرَ أَنَّ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ ، أَلَا : ¤ إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ ¤ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ ، ثَلَاثًا ، قَالَ : هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَةِ ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ ¤ قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ ¤ أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ ¤ أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ ¤ تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ . وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو شخص ” معد “ سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں ” معد“ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں ” معد “ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ قضاعہ بن مالک بن حمیر ( کی اولاد ) سے تعلق رکھتے ہو ، جو ایک معروف نسب ہے ، منکر نہیں ہے ۔ سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ روایت چھپا کے رکھی ، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور بولے : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا تذکرہ کرو ! اس کے بدلے میں ، میں تمہیں زندگی بھر عراقین ( دو عراق ، یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج ادا کرتا رہوں گا ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے تو یہ اعلان کیا گیا : لوگ جمع ہو جائیں ، لوگ جمع ہو گئے ، سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور منبر پر چڑھ گئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگوں کے گروہ ! جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو مجھے جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عمرو بن مرہ جہنی ہوں ، معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے بلوایا ، تاکہ میں منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا ذکر کروں : بے شک ہم چمکدار اور روشن بزرگ کی اولاد ہیں ، جو قضاعہ بن مالک بن حمیر ہے ، جو ایک معروف نسب ہے اور منکر نہیں ہے ۔ پھر وہ منبر سے نیچے آ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے وعدہ خلاف ! یہ کیا کیا ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ۔ تو سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہی چیز ہے جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے ، اے امیرالمؤمنین ! تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے زہیر ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا: اے ابا جان ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، اگر آپ امیر المؤمنین کی بات مان لیں ، وہ آپ کو دونوں عراقوں ( یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج زندگی بھر دیتے رہیں گے ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : اے زہیر ! اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تم نے لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے مجھے عار کی چادر اوڑھا دی ہے ۔ ہمارا جدامجد قحطان ہے جس کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور ابوخزیمہ خندف بن نزار ہے ۔ کیا تاریک رات میں لوگوں کے درمیان اپنے پتے گرانے والا زیادہ معذور شمار ہو گا ، یا دن میں ایسا کرنے والا ( زیادہ معذور شمار ہو گا ) ۔ جس باپ کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ، کیا ہم اسے مختلف گروہوں کے جدامجد کے عوض میں فروخت کر دیں جو پوشیدہ اور چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا سودا ہو گا ، جیسے سونے کو ڈھیلوں اور پتھروں کے عوض میں فروخت کر دیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے ، ازدی فرماتے ہیں : اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف