حدیث نمبر: 940
وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا فِي غَنَمٍ لِي أَرْعَاهَا ، فَتَرَكْتُهَا ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : تُبَايِعُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ : أَبَيْعَةُ هِجْرَةٍ أَوْ بَيْعَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ ؟ " فَقُلْتُ : بَيْعَةُ هِجْرَةٍ ، فَبَايَعَنِي . ثُمَّ قَالَ يَوْمًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ثُمَّ قَالَ : " مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةُ فَقُمْتُ ، فَقَالَ : " اقْعُدْ " فَقُلْتُ : مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَشَيْخُهُ مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

ابوعشانہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، میں اُس وقت اپنی بکریاں چرا رہا تھا ، میں نے بکریوں کو چھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بیعت لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے خاندان سے ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سی چیز تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کیا ہجرت کی بیعت ؟ یا دیہاتی رہنے کی بیعت ؟ میں نے عرض کی : ہجرت کی بیعت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت لے لی ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے ارشاد فرمایا : یہاں معد ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں جو شخص معد سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات ارشاد فرمائی ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قضاعه بن مالک بن حمیر سے تعلق رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُن کا استاد معروف بن سوید ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 304/17»