حدیث نمبر: 937
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ، فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ فَيَقُولُ : " اقْعُدْ " ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ : " مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : " أَنْتُمْ - مَعْشَرَ قُضَاعَةَ - مِنْ حِمْيَرَ " . قَالَ عَمْرٌو : فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ عِنْدُهُ طُرُقٌ ، فَفِي بَعْضِهَا : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّنْ نَحْنُ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ مِنَ الْيَدِ الطَّلِيقَةِ وَاللُّقْمَةِ الْهَنِيَّةِ ؛ مِنْ حِمْيَرَ " . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہاں جو شخص ” معد“ سے تعلق رکھتا ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیتے : تم بیٹھ جاؤ ! جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے قضاعہ قبیلے کے افراد ! تم لوگ ” حمیر “ سے تعلق رکھتے ہو ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں نے بیس سال تک یہ حدیث چھپا کے رکھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے ( اپنی اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کے مختلف طرق نقل کئے ہیں ، جن میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا تعلق پھیلے ہوئے ہاتھ اور سیر کرنے والے لقمے ( شاید اس سے مراد مہمان نواز اور سخی ہونا ہے ) ” حمیر “ سے ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 231/4 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1554 اورده المؤلف فى زوائد المسند 265 اورده المؤلف فى كشف الاستار 221 اورده المؤلف فى المقصد العلى 92»