حدیث نمبر: 9297
وَعَنْ شَدَّادٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَاشْتَكَى . فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا شَدَّادُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَكَيْتُ وَلَوْ شَرِبْتُ مِنْ مَاءِ بَطِحَانَ لَبَرِئْتُ . قَالَ : " فَمَا يَمْنَعُكَ ؟ " قُلْتُ : هِجْرَتِي . قَالَ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ حَيْثُ كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ہجرت کی بیعت کر لی پھر وہ بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے شداد تمہیں کیا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں اگر میں بطحان کا پانی پی لوں گا ، تو ٹھیک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم ایسا کرتے کیوں نہیں ہو ؟ میں نے عرض کی : اپنی ہجرت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! تم جہاں بھی ہو گے تم مہاجر شمار ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7109)»