مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَلَا سَبَبٍ باب: جو شخص اجازت یا سبب کے بغیر ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 9296
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ : مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَعْشَبَتِ الْقِفَارُ فَلَوِ ابْتَعْتَ أَعْنُزًا فَتَنَزَّهْتَ تَصِحُّ . فَقَالَ : لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْبَدَاءِ غَيْرَ أَسْلَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
مسلم بن جرہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ایک صاحب نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! خالی جگہیں گھاس پھوس والی ہو گئی ہیں ، اگر آپ بکریاں خرید لیں ، اور آبادی سے باہر چلے جائیں ، تو آپ ٹھیک ہو جائیں گے انہوں نے فرمایا : اسلم قبیلے کے افراد کے علاوہ ، ہم میں سے اور کسی کو ، بدوی زندگی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومریم عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔