کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص اجازت یا سبب کے بغیر ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 9293
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : مَا بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ . فَقَالَ جَابِرٌ : لَا تَقُلْ ذَاكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَسْلَمَ : " أَبُدُوًّا يَا أَسْلَمُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا . فَقَالَ : " أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَعُمَرُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن عبدالرحمن بن جرہد بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا آپ کے ہمراہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے کتنے لوگ باقی رہ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اس شخص نے کہا: جہاں تک سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو وہ ہجرت کرنے کے بعد واپس چلے گئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلم قبیلے کے افراد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : اے اسلم قبیلے کے لوگو ! کیا تم بدوی زندگی اختیار کرو گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر ہم نے ہجرت کر لی تو اس کے بعد واپس نہ چلے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ( یعنی عمرو بن عبدالرحمن ) جہاں کہیں بھی ہوں گے تم مہاجر شمار ہو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے عمر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے عمر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9294
وَعَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحُصَيْبِ فَقَالَ : ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ ؟ فَقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَبُدُوًّا يَا أَسْلَمُ فَتَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ ، وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ ؟ " . فَقَالُوا : إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا . فَقَالَ : " أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : لِسَلَمَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایاس بن سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سلمہ کیا تم ہجرت کرنے کے بعد واپس چلے گئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت ملی ہوئی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اسلم قبیلے کے لوگو ! کیا تم لوگ بدوی زندگی اختیار کر لو گے کہ جہاں پر تم ہواؤں میں رہو اور گھاٹیوں میں رہائش اختیار کرو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ ہماری ہجرت کے حوالے سے ہمیں یہ چیز نقصان پہنچائے گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم مہاجر ہو گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ایاس بن سلمہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ایاس بن سلمہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9295
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْتُمْ بَدْوُنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضَرِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمارے دیہاتی ہو اور ہم تمہارے شہری ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9296
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ : مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَعْشَبَتِ الْقِفَارُ فَلَوِ ابْتَعْتَ أَعْنُزًا فَتَنَزَّهْتَ تَصِحُّ . فَقَالَ : لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْبَدَاءِ غَيْرَ أَسْلَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
مسلم بن جرہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ایک صاحب نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! خالی جگہیں گھاس پھوس والی ہو گئی ہیں ، اگر آپ بکریاں خرید لیں ، اور آبادی سے باہر چلے جائیں ، تو آپ ٹھیک ہو جائیں گے انہوں نے فرمایا : اسلم قبیلے کے افراد کے علاوہ ، ہم میں سے اور کسی کو ، بدوی زندگی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومریم عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومریم عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9297
وَعَنْ شَدَّادٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَاشْتَكَى . فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا شَدَّادُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَكَيْتُ وَلَوْ شَرِبْتُ مِنْ مَاءِ بَطِحَانَ لَبَرِئْتُ . قَالَ : " فَمَا يَمْنَعُكَ ؟ " قُلْتُ : هِجْرَتِي . قَالَ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ حَيْثُ كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ہجرت کی بیعت کر لی پھر وہ بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے شداد تمہیں کیا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں اگر میں بطحان کا پانی پی لوں گا ، تو ٹھیک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم ایسا کرتے کیوں نہیں ہو ؟ میں نے عرض کی : اپنی ہجرت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! تم جہاں بھی ہو گے تم مہاجر شمار ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9298
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَى أَصْحَابِهِ بِتُسْتَرَ يَزُورُهُمْ فَيُقِيمُ يَوْمَ دُخُولِهِ وَالثَّانِيَ وَيَخْرُجُ فِي الثَّالِثِ فَيَقُولُونَ لَهُ : لَوْ أَقَمْتَ ؟ فَيَقُولُ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ التَّنَاءَةِ ، فَمَنْ أَقَامَ بِبَلَدِ الْخَرَاجِ فَقَدْ تَنَأَ ، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُقِيمَ . . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ ” تستر “ میں اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے ۔ وہ ان سے ملنے کے لئے جاتے تھے ، تو جس دن وہ آتے تھے اس دن مقیم رہتے تھے اگلے دن مقیم رہتے تھے اور تیسرے دن نکل آتے تھے لوگ ان سے کہتے تھے : اگر آپ اور مقیم رہتے تو یہ مناسب تھا ، تو وہ یہ بیان کرتے تھے میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے ، آپ نے آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے سے منع کیا ہے کہ جو شخص خراج والے علاقے میں مقیم ہو گا ، وہ آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے والا ہو گا ، تو مجھے یہاں مقیم رہنا ناپسند ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9299
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَا جَفَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے اس میں سختی آ جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9300
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ ، إِلَّا فِي فِتْنَةٍ فَإِنَّ الْبُدُوَّ خَيْرٌ مِنَ الْمُقَامِ فِي الْفِتْنَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے البتہ فتنہ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ فتنے کی جگہ ٹھہرے رہنے کے مقابلے میں بدوی زندگی اختیار کر لینا زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔