حدیث نمبر: 9298
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَى أَصْحَابِهِ بِتُسْتَرَ يَزُورُهُمْ فَيُقِيمُ يَوْمَ دُخُولِهِ وَالثَّانِيَ وَيَخْرُجُ فِي الثَّالِثِ فَيَقُولُونَ لَهُ : لَوْ أَقَمْتَ ؟ فَيَقُولُ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ التَّنَاءَةِ ، فَمَنْ أَقَامَ بِبَلَدِ الْخَرَاجِ فَقَدْ تَنَأَ ، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُقِيمَ . . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ ” تستر “ میں اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے ۔ وہ ان سے ملنے کے لئے جاتے تھے ، تو جس دن وہ آتے تھے اس دن مقیم رہتے تھے اگلے دن مقیم رہتے تھے اور تیسرے دن نکل آتے تھے لوگ ان سے کہتے تھے : اگر آپ اور مقیم رہتے تو یہ مناسب تھا ، تو وہ یہ بیان کرتے تھے میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے ، آپ نے آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے سے منع کیا ہے کہ جو شخص خراج والے علاقے میں مقیم ہو گا ، وہ آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے والا ہو گا ، تو مجھے یہاں مقیم رہنا ناپسند ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1511) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5467)»