مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَلَا سَبَبٍ باب: جو شخص اجازت یا سبب کے بغیر ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کرے اس کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : مَا بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ . فَقَالَ جَابِرٌ : لَا تَقُلْ ذَاكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَسْلَمَ : " أَبُدُوًّا يَا أَسْلَمُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا . فَقَالَ : " أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَعُمَرُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عمرو بن عبدالرحمن بن جرہد بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا آپ کے ہمراہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے کتنے لوگ باقی رہ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اس شخص نے کہا: جہاں تک سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو وہ ہجرت کرنے کے بعد واپس چلے گئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلم قبیلے کے افراد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : اے اسلم قبیلے کے لوگو ! کیا تم بدوی زندگی اختیار کرو گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر ہم نے ہجرت کر لی تو اس کے بعد واپس نہ چلے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ( یعنی عمرو بن عبدالرحمن ) جہاں کہیں بھی ہوں گے تم مہاجر شمار ہو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے عمر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔