حدیث نمبر: 9292
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتَ تَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ فِي الْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا ؟ قَالَ : " بَلَى وَلَعَلَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَرْفَعُكَ فَيَنْصُرُ بِكَ قَوْمًا وَيَنْفَعُ آخَرِينَ بِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بات کو ناپسند نہیں کرتے ہیں کہ آدمی اس جگہ پر مر جائے کہ جہاں سے وہ ہجرت کر کے چلا گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ نصیب کرے گا ، اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کی مدد کرے گا ، اور تمہارے ذریعے کچھ دوسرے لوگوں کو نفع پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمر بن ہیاج کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1752)»