حدیث نمبر: 902
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ الْغِفَارِيِّ أَنَّ سَلِيمَ ] بْنَ عُتْرٍ التُّجِيبِيَّ كَانَ يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ قَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ صِلَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْغِفَارِيُّ - وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَاللَّهِ مَا تَرَكْنَا عَهْدَ نَبِيِّنَا ، وَلَا قَطَعْنَا أَرْحَامَنَا ، حَتَّى قُمْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوصالح سعيد بن عبدالرحمن غفاری بیان کرتے ہیں : سلیم بن عتر تجیبی کھڑا ہو کر لوگوں کو وعظ کر رہا تھا ، تو سیدنا صلہ بن حارث غفاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، اُنہوں نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم ( یعنی ہمارے زمانے کے عام لوگوں ) نے اپنے نبی کے عہد کو ترک نہیں کیا ، اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال نہیں کیا ، یہاں تک کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے درمیان کھڑے ہونے لگے ( یعنی جب تم جیسے لوگوں نے وعظ کرنا شروع کیا تو عام لوگ خرابی کا شکار ہو گئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7407»