مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِصَصِ . باب: قصے بیان کرنے کا بیان
وَعَنْ عَمْرِوِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : وَقَفَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَأَنَا أَقُصُّ فَقَالَ : يَا عَمْرُو ، لَقَدِ ابْتَدَعْتَ بِدْعَةً ضَلَالَةً أَوْ إِنَّكَ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ تَفَرَّقُوا عَنِّي حَتَّى رَأَيْتُ مَكَانِي مَا فِيهِ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ إِسْنَادَانِ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، رَوَاهُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ¤عمرو بن زرارہ بیان کرتے ہیں : میں وعظ کر رہا تھا ، اسی دوران سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے : تم نے گمراہی والی بدعت اختیار کی ہے ؟ یا تم خود کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہو ؟ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے ، جو میرے ( یعنی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے پاس سے تو اُٹھ گئے تھے ، یہاں تک کہ میرے گھر میں ان میں سے ایک بھی موجود نظر نہیں آیا ( اور یہ لوگ تمہارے گرد اکٹھے ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی دو اسناد ہیں ، جن میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت اسود نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔