مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِصَصِ . باب: قصے بیان کرنے کا بیان
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ رَكِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ . قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَأَلُهُ عُمَرُ : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قَالَ : لِأَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ . قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : رُبَّمَا كُنْتُ أَنَا وَالْمَرْأَةُ فِي بِنَاءٍ ضَيِّقٍ فَتَحْضُرُ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ صَلَّيْتُ أَنَا وَهِيَ كَانَتْ بِحِذَائِي ، فَإِنْ صَلَّتْ خَلْفِي خَرَجَتْ مِنَ الْبِنَاءِ . قَالَ : تَسْتُرُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بِثَوْبٍ ، ثُمَّ تُصَلِّي بِحِذَائِكَ إِنْ شِئْتَ ، وَعَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ . قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمَا . قَالَ : وَعَنِ الْقِصَصِ . قَالَ : مَا شِئْتَ - كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَمْنَعَهُ - . قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَى قَوْلِكَ ، قَالَ : أَخْشَى عَلَيْكَ أَنْ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ فِي نَفْسِكَ ، ثُمَّ تَقُصُّ فَتَرْتَفِعَ فِي نَفْسِكَ ، حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْكَ أَنَّكَ فَوْقَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الثُّرَيَّا ، فَيَضَعَكَ اللَّهُ تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤حارث بن معاویہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ اُن سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اس لئے تاکہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ حارث نے کہا: بعض اوقات میں اور ایک عورت کسی تنگ جگہ پر موجود ہوتے ہیں ، نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، اگر میں اور وہ دونوں نماز ادا کرتے ہیں ، تو وہ میرے بالکل برابر ہوتی ہے ، اور اگر وہ مجھ سے پیچھے نماز ادا کرے ، تو وہ عمارت سے باہر ہو جاتی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی کپڑے کے ذریعے اپنے اور اُس کے درمیان پردہ ڈال لینا ، پھر اگر تم چاہو تو وہ تمہارے برابر کھڑی ہو کر نماز ادا کر سکے گی ، حارث نے دریافت کیا : عصر کے بعد کی دو رکعات ( کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان سے منع کیا ہے ( راوی نے دریافت کیا : ) قصے بیان کرنے ( کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو تم چاہو ! ( یعنی تم قصے بیان کر سکتے ہو ) گویا انہوں نے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ انہیں اس سے منع کر دیں ، حارث نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں آپ کے قول کی پیروی کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ جب تم قصہ بیان کرو گے ( یعنی وعظ کرو گے ) تو تم خود کو بڑا سمجھو گے ، پھر تم قصہ بیان کرو گے تو خود کو ( مزید ) بلند سمجھو گے ، یہاں تک کہ تمہیں یہ محسوس ہو گا کہ تم ان لوگوں سے اتنے بلند ہو ، جتنا ثریا ستارہ بلند ہوتا ہے ، تو قیامت کے دن اسی مقدار کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اُن لوگوں کے قدموں کے نیچے رکھ دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، حارث بن معاویہ کندی نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔