مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبِدَعِ وَالْأَهْوَاءِ . باب: بدعتوں اور نفسانی خواہشات کا بیان
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ ، إِنَّا قَدْ جَمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ ، فَقَالَ : وَمَا هُمَا ؟ قَالَ : رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ، وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ ، فَقَالَ : [ أَمَا ] إِنَّهُمَا مِثْلُ بِدْعَتِكُمْ عِنْدِي ، وَلَسْتُ بِمُجِيبِكُمْ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا . قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلَهَا مِنَ السُّنَّةِ ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤حضرت غضیف بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا ، اُس نے کہا : اے ابوسلیمان ! ہم نے دو معاملوں کے حوالے سے لوگوں کو جمع کیا ہے ، حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ دو معاملے کیا ہیں ؟ عبدالملک بن مروان نے کہا : جمعہ کے دن منبر پر ہاتھ بلند کرنا ، اور صبح و عصر کی نماز کے بعد درس دینا ( یا وعظ کرنا ) ، تو حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے نزدیک یہ دونوں چیزیں تمہاری بدعت کی مانند ہیں ، اور میں تمہیں ان دونوں میں سے کسی کی اجازت نہیں دوں گا ، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو بھی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے ، تو اس ( بدعت ) کی مانند کوئی سنت اٹھا لی جاتی ہے ۔،، ( پھر حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” سنت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے ۔،، یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔