کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بدعتوں اور نفسانی خواہشات کا بیان
حدیث نمبر: 891
عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ; لِأَنَّ أَبَا الْحَكَمِ الْبُنَانِيَّ الرَّاوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ بَيَّنَهُ الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ : عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ . وَقَدْ رَوَى لَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزه رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے تم لوگوں کے حوالے سے بھٹکانے والی شہوتوں کا اندیشہ ہے ، جن کا تعلق تمہارے پیٹ اور شرم گاہوں سے ہو گا ، اور گمراہ کرنے والی نفسانی خواہشات ( کا اندیشہ ہے ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوالحکم بنانی کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، اُس کے بارے میں امام طبرانی نے یہ بیان کیا ہے : یہ ابوالحکم سے منقول ہے ، اور وہ علی بن حکم ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور سنن کے مؤلفین نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 420/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 198 اورده المؤلف فى كشف الاستار 131»
حدیث نمبر: 892
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ ، إِنَّا قَدْ جَمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ ، فَقَالَ : وَمَا هُمَا ؟ قَالَ : رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ، وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ ، فَقَالَ : [ أَمَا ] إِنَّهُمَا مِثْلُ بِدْعَتِكُمْ عِنْدِي ، وَلَسْتُ بِمُجِيبِكُمْ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا . قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلَهَا مِنَ السُّنَّةِ ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
حضرت غضیف بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا ، اُس نے کہا : اے ابوسلیمان ! ہم نے دو معاملوں کے حوالے سے لوگوں کو جمع کیا ہے ، حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ دو معاملے کیا ہیں ؟ عبدالملک بن مروان نے کہا : جمعہ کے دن منبر پر ہاتھ بلند کرنا ، اور صبح و عصر کی نماز کے بعد درس دینا ( یا وعظ کرنا ) ، تو حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے نزدیک یہ دونوں چیزیں تمہاری بدعت کی مانند ہیں ، اور میں تمہیں ان دونوں میں سے کسی کی اجازت نہیں دوں گا ، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو بھی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے ، تو اس ( بدعت ) کی مانند کوئی سنت اٹھا لی جاتی ہے ۔،، ( پھر حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ” سنت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے ۔،،
یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 105/4290 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 197 اورده المؤلف فى كشف الاستار 131»
حدیث نمبر: 893
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ أُمَّةٍ ابْتَدَعَتْ بَعْدَ نَبِيِّهَا فِي دِينِهَا بِدْعَةً إِلَّا أَضَاعَتْ مِثْلَهَا مِنَ السُّنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غضیف بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کوئی اُمت اپنے نبی کے بعد اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے ، تو وہ ( اُمت ) اُس ( بدعت ) کی مانند کوئی سنت ضائع کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 894
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً ، حَتَّى تَحْيَا الْبِدَعُ وَتَمُوتَ السُّنَنُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” لوگوں پر جو بھی نیا سال آتا ہے ، یہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں ، اور کسی سنت کو ختم کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ بدعتیں رہ جائیں گی اور سنتیں ختم ہو جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔
حدیث نمبر: 895
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ - أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آسمان کے سائے تلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جتنے بھی معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے ، اُن میں سے کوئی بھی ( باطل معبود ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک نفسانی خواہش کی پیروی سے زیادہ بڑا ( یعنی زیادہ ناپسندیدہ ) نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، کیونکہ اس کی سند میں حسن بن دینار ہے جو کہ متروک الحدیث ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7502»
حدیث نمبر: 896
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دَيْنَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا - هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” اے عائشہ ! بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں فرقہ بندی اختیار کی اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ، وہ بدعت کی پیروی کرنے والے اور نفسانی خواہشات کے پیروکار لوگ تھے ، اُن کے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، میں ان سے لاتعلق ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں دو راوی ، بقیہ اور مجالد بن سعید ہیں اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 203/1»
حدیث نمبر: 897
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى صَاحِبِ بِدْعَةٍ لِيُوَقِّرَهُ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی بدعتی کی طرف چل کر جائے ، تاکہ اُس کی تعظیم کرے ، تو اُس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 96/20»
حدیث نمبر: 898
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ الثُّمَالِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَمْرُ الْمُفْظِعُ ، وَالْحِمْلُ الْمُضْلِعُ ، وَالشَّرُّ الَّذِي لَا يَنْقَطِعُ - إِظْهَارُ الْبِدَعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر ثمالی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایسا معاملہ جو پریشان کر دے ، ایسا بوجھ جو کمر توڑ دے اور ایسی خرابی جو کبھی منقطع نہ ہو ، وہ بدعتوں کا اظہار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3194»