حدیث نمبر: 857
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ إِذْ أَتَى بِرَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانِ الْعَبْدِيُّ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَضَرَبَهُ بِعَصًا مَعَهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ) فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كُتُبَ دَانْيَالَ ؟ قَالَ : مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعُهُ . قَالَ : انْطَلِقْ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ ، ثُمَّ لَا تَقْرَأْهُ أَنْتَ وَلَا تُقْرِئْهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأُنْهِكَنَّكَ عُقُوبَةً ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجَنَتَاهُ ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ ، وَاخْتُصِرَ لِيَ اخْتِصَارًا ، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، فَلَا تَتَهَوَّكُوا ، وَلَا يُغْرُنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ " . قَالَ عُمَرُ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِكَ رَسُولًا . ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا اور اُس کی رہائش گاہ ” سوس “ میں تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فلاں بن فلاں عبدی ہو ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود عصا اُسے مارا ، اس شخص نے کہا: امیرالمؤمنین ! میرا کیا قصور ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے تم پر عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کرنے لگے ہیں ، اس کے حوالے سے ، جو ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے ، اگرچہ اس سے پہلے تم غافل لوگوں میں سے ایک تھے “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سامنے ان آیات کو تین مرتبہ تلاوت کیا اور تینوں مرتبہ اُسے مارا ، اس نے دریافت کیا : امیرالمؤمنین میرا قصور کیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جس نے سیدنا دانیال علیہ السلام کی کتابوں کا نسخہ نقل کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا: آپ مجھے حکم دیں ، میں اُس کی پیروی کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور اس تحریر کو گرم پانی اور صاف روئی کے ذریعے مٹا دو ! اور پھر کبھی اسے نہ پڑھنا ، اور نہ ہی کسی کو پڑھانا ، اگر تمہارے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اُسے پڑھا ہے ، یا کسی کو پڑھایا ہے ، تو میں تمہیں سزا دوں گا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ایک مرتبہ میں گیا ، اور میں نے اہل کتاب کی کتاب میں سے کچھ حصہ نقل کیا ، ایک چمڑے پر اُسے نوٹ کر کے میں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک تحریر ہے جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے سے پہلے موجود معلومات میں اضافہ ہو جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے ، پھر یہ اعلان کیا گیا : لوگ اکٹھے ہو جائیں ، انصار نے کہا: کیا تمہارے نبی غضبناک ہوئے ہیں ؟ ہتھیار سنبھالو ! ہتھیار سنبھالو ! وہ لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے گرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، میرے لیے اختصار کیا گیا ہے اور میں تمہارے پاس صاف اور واضح ہدایت لے کر آیا ہوں ، تو تم لوگ موشگافی کرنے والے نہ ہو جانا اور موشگافی کرنے والے لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کہا: میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم ( منبر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3005»