حدیث نمبر: 855
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : بَلَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْمًا يَقْعُدُونَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ يَقُولُونَ : قُولُوا كَذَا ، قُولُوا كَذَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ فَعَلُوا فَآذِنُونِي ، فَلَمَّا جَلَسُوا أَتَوْهُ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُمْ ، فَجَلَسَ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ ، فَأَخَذُوا فِي تَسْبِيحِهِمْ ، فَحَسَرَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَأْسِهِ الْبُرْنُسَ وَقَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَقَدْ جِئْتُمْ بِدْعَةً ظُلْمًا ، وَإِلَّا فَضَلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَفَرَّقُوا . قَالَ : وَرَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ حَلْقَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَامَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ : أَيَّتُكُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا ؟ قَالَتْ إِحْدَاهُمَا : نَحْنُ . فَقَالَ لِلْأُخْرَى : قُومُوا إِلَيْهَا . فَجَعَلَهُمْ وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤ وَفِي بَعْضِ طُرُقِ الطَّبَرَانِيِّ الصَّحِيحَةِ الْمُخْتَصَرَةِ : فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مُتَقَنِّعًا فَقَالَ : مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، أَوْ إِنَّكُمْ لَتَعْلَقُونَ بِذَنَبِ ضَلَالَةٍ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ لِعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ : فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ الْقَوْمَ ، لَقَدْ سَبَقُوكُمْ سَبْقًا بَعِيدًا مُبِينًا ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا ، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا . ¤
محمد محی الدین

ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان بیٹھ کر ( ایک دوسرے کو ) یہ کہتے ہیں : تم یہ پڑھو ! تم یہ پڑھو ! سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب وہ ایسا کرنے لگیں گے ، تو تم لوگ مجھے بتا دینا جب وہ لوگ بیٹھ گئے ، تو دوسرے لوگ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بیٹھ گئے ، اُنہوں نے ٹوپی لی ہوئی تھی ( یعنی اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا ) جب اُن لوگوں نے اپنی تسبیح شروع کی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سر سے ٹوپی ہٹائی اور بولے : میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، تو وہ لوگ خاموش ہو گئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ظلم کے طور پر بدعت کا ارتکاب کیا ہے ، اگر ایسا نہ ہو ، تو تم ہم پر یعنی سیدنا محمد کے اصحاب پر فضیلت رکھتے ہو ؟ تو عمرو بن عتبہ بن فرقد نے کہا: اے ابن مسعود ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بکھر جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد میں دو حلقے دیکھے ، تو وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور دریافت کیا : تم دونوں میں سے کون سا حلقہ پہلے بنا تھا ؟ ایک حلقے کے افراد نے کہا: ہم ( پہلے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے تھے ) تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دوسرے حلقے والوں سے کہا: تم لوگ اُٹھ کر ان کے ساتھ مل جاؤ ! تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ہی حلقہ بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطا بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ امام طبرانی کے بعض مستند طرق میں یہ روایت اختصار کے ساتھ منقول ہے ( جس میں یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سر ڈھانپ کر تشریف لائے ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، کیا تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب سے زیادہ ہدایت والے ہو ؟ یا پھر تم لوگ گمراہی کے گناہ کے ساتھ چمٹ گئے ہو ؟ عطاء بن سائب کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم قوم ( یعنی صحابہ کرام ) کی پیروی کرتے ، تو وہ تم سے بہت زیادہ اور واضح سبقت لے جا چکے ہیں ، اور اگر تم نے دائیں بائیں کا راستہ اختیار کیا ، تو تم بہت زیادہ گمراہی کا شکار ہو جاؤ گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8630»