مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِالسَّلَفِ . باب: اسلاف کی پیروی کرنا
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عَلَى بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى فَقَالَ : اخْرُجْ إِلَيْنَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي ، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي ، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ : سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا ، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا . قَالَ : فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْيَاءٌ ، وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ ، احْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ ، فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى . ¤عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مغرب اور عشاء کے درمیان ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ ہمارے پاس باہر تشریف لے آئیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس وقت کیوں آئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں نے ایک معاملہ دیکھا ، جس نے مجھے پریشان کر دیا وہ بات بھلائی کی ہے ، لیکن اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، اگرچہ وہ بات بھلائی کی ہے ، کچھ لوگ ایک مسجد میں اکٹھے بیٹھے تھے ، ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : اتنی اتنی مرتبہ سبحان اللہ پڑھو ! اتنی اتنی مرتبہ الحمد للہ پڑھو ! راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چل پڑے ، ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور بولے : تم لوگ کتنی جلدی گمراہی کا شکار ہو گئے ہو ؟ حالانکہ اللہ کے رسول کے اصحاب ابھی زندہ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج موجود ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اور برتن خراب نہیں ہوئے ہیں ، تم لوگ اپنی برائیاں شمار کرو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ضمانت دیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ ، امام أحمد بن حنبل اور یحیی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔