مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِجْمَاعِ . باب: اجماع ( یعنی اتفاق ) کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ ؟ قَالَ : " تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الْقِيَاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو ، اور اس کے حوالے سے آپ کی طرف سے کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے اہل ایمان میں سے ، عبادت گزار افراد کے درمیان باہمی مشورے کے لیے پیش کر دینا ، اور تم اس کے حوالے سے بطور خاص کسی ایک کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ، یہ مکمل حدیث ، قیاس سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔