مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِجْمَاعِ . باب: اجماع ( یعنی اتفاق ) کا بیان
حدیث نمبر: 834
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ نَزَلَ بِنَا أَمْرٌ لَيْسَ فِيهِ بَيَانُ أَمْرٍ وَلَا نَهْيٍ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " شَاوِرُوا [ فِيهِ ] الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ ، وَلَا تَمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو ، جس میں کسی حکم یا ممانعت کا بیان موجود نہ ہو ، تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ( اس بارے میں ) فقہاء اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرو ، اور اس میں کسی ایک شخص کی رائے کو نافذ نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور یہ صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔