مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِجْمَاعِ . باب: اجماع ( یعنی اتفاق ) کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ ، وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَاتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ [ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ ] ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَاتِلُونَ عَنْ دِينِهِ ، فَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدُ اللَّهِ سَيِّئٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوثَقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر کی ، تو اس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنی ذات کے حوالے سے منتخب کر لیا ، اور اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے ( سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد ) بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا ، تو ان کے اصحاب کے دلوں کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنا دیا ، جو اس کے دین کے حوالے سے جنگ کرتے ہیں ، مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں ، وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی شمار ہو گی ، اور مسلمان جس چیز کو برا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بری شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔